رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی مختصر سی تقریر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرنے اور اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو ریاست پاکستان کی طرف سے چتاونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کی طرف سے کیا جانے والا یہ احتجاج اور مظاہرین کے قائدین کی طرف سے ریاست کے ادروں کی ذمہ دارشخصیات کے بارے میں استعمال کی جانے والی زبان برداشت نہیں کی جائے گی۔ اور یہ کہ مظاہرین ریاست سے ٹکرانے کی کوشش نہ کریں۔ بڑی اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے اس زبان درازی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے خطاب میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق قرار دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کی طرف سے دی جانے والی یہ چتاونی کافی ہے؟ اور کیا اس تنبیہ کے بعد ایسی ناپسندیدہ زبان اور بیان کی نوبت نہیں آئے گی؟ اور مظاہرین وزیر اعظم کی بات پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے اپنی زبان پر قابو رکھنے کا عہد کر لیں گے؟ رات میں نے ایک محبت کرنے والے دوست اور دانشور کے موبائل پر جو کلپ دیکھا اور اس میں مظاہرین کے قائدین کی جو گفتگو سنی ، اسے یہاں دہرانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا اگر عشر عشیر بھی کسی سیاست دان، کسی صحافی یا کسی دانشور کی زبان سے نکلا ہوتا تو اب تک اس کابال بچہ کوہلو ہو چکا ہوتا۔ تازہ ترین مثال سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کی ہمارے سامنے ہے۔مگر یہ دھمکیاں ہی نہیں بلکہ ان دھمکیوں پر عمل درآمد کے لیئے اکسانے والوں کو ہر حکومت بس اتنا ہی کہہ سکتی ہے کہ ”باز آ جاﺅ۔۔ورنہ “اور پھر ورنہ سے آگے حکومتوں کی رٹ جواب دے جاتی ہے۔ آج جن لوگوں کو وزیر اعظم پاکستان چتاونی دے رہے ہیں ، یہ لوگ یوں ہی ایک دم منظر عام پر نہیں آجاتے، پہلے حکومتیں اور مقتدر ادارے انہیں اپنے مقاصد کے لیئے پالتے پوستے ہیں پروان چڑھاتے ہیں۔ ان سے اپنے مقصد کا کام لیتے ہیں اور پھر بلآخر یہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ جب چاہیں حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیں۔ طالبان کی مثال بھی ہمارے عہد ہی کی مثال ہے جب ان کے بارے میں مقتدر اداروں کی رائے اس شعر کے مصداق ہوگئی ۔۔
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
وہ بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے
ابھی کل کی بات ہے کہ فیض آباد دھرنے سے پہلے کتنے لوگ تھے ، جواس قسم کی زبان اور بیان کے حامل قائدین سے واقف تھے۔ سیاست میں تورواداری، بردباری اور تحمل کا جنازہ خود عمران خان کے پیروکاروں نے نکال دیا ہے۔ اب رہی سہی کسر علمائے دین ہونے کے دعویداران پوری کر رہے ہیں۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور کسی مسلمان کلمہ گو کا ایمان رسول پاک ﷺ کو نبی آخرالزماں تسلیم کیئے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ نبی پاک ﷺ کی حرمت کا پاس اور تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزوہے۔ اس کے ساتھ ہی نبی پاکﷺ کی سنت۔آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا۔ یہ آپﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے۔قانون کا احترام بھی ہر شہری پر لازم ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے دیگر فیصلوں کی طرح اس فیصلے پر اختلاف اور تنقید کا حق بھی اپنی جگہ پر بجاہے اور اس فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کے لیئے اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی موجود ہے۔مگر کوئی بھی قانونی راہ اختیار کرنا اب ہمارے قومی مزاج کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔ خود کردہ را علاج نیست ۔لوگوں کو گروہ کی صورت میں سڑکوں پر لا کر دھرنے دینے کا آغاز ملک کی دینی جماعت ۔۔جماعت اسلامی نے کیا تھا۔ اور اسے آخیر تک وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے پہنچایا ہے۔تحریک انصاف کے ابتدائی دنوں میں عمران خان کے دایئں بائیں میاں محمود الرشد اور چوہدری اعجاز بیٹھے ہوا کرتے تھے ، ان دونوں کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔خیر۔ بات کا رخ کسی اور طرف نکل جانے سے پہلے عرض یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں سے نبٹنے کا احتمام کریں ، صرف چتاونی دینا کافی نہیں۔
منگل, ستمبر 15, 2026
تازہ خبریں:
- اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی

