زمبابوے میں لوگوں نے گھوڑوں کی ریس کروانے کا فیصلہ کیا سب نے ریس کے لیے اپنے اپنے گھوڑے تیار کئیے اچانک زمبابوے کی فوج کے چند جرنیلوں اور چند ججوں نے کھپ ڈال دی کہ ہمیں بھی کھلاؤ ہم بھی ریس میں حصہ لیں گے تو زمبابوے کے لوگوں نے کہا کہ آپ اس ملک کے اہم ادارے ہیں آپ لوگوں کو زیب نہیں دیتا کہ سویلینز کے ساتھ مقابلہ کریں لیکن وہ بضد تھے آخر زمبابوے کے لوگوں نے طاقت کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے کہا کہ ٹھیک ہے آپ بھی اپنا شوق پورا کر لیں اب زمبابوے کے اداروں نے بہت ڈھونڈا لیکن انہیں کہیں سے گھوڑا نہیں ملا آخر انہوں نے ایک گدھے کو ریس میں ڈال دیا زمبابوے کے لوگوں نے کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں یہ گدھا تو گھوڑوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور آپ ریس ہار جائیں گے یہ زمبابوے کی عوام کو قبول نہیں کہ اس کے اداروں کی بدنامی ہو اس پر زمبابوے کے چند جرنیل اور ججز نےکہا کہ آپ دیکھتے جائیں ہم آپ کو یہ ریس جیت کر دکھائیں گے اب انہوں نے اپنے گدھے کو جتانے کے لیے ریس کے تمام قوانین تبدیل کر دیے ریس کی اختتامی لائن گھوڑوں کے لئے دور اور گدھوں کے لیے نزدیک ترین رکھ دی اسی طرح تمام قوانین کو روند ڈالا لوگ ڈر کے مارے چپ کر گیے کہ اب ان اداروں سے کیا مقابلہ کریں پھر ایک دن آیا کہ ریس شروع ہو گئی تمام گھوڑے سرپٹ دوڑنے لگے لیکن گدھا نہ دوڑا اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ کرنا کیا ہے گدھے کے مالکوں نے اسے دھکے دئیے ڈنڈے مارے لیکن وہ نہ چلا انہوں نے سوچا کہ یہ ریس تو ہم ہار جائیں گے حکم دیا کہ تمام گھوڑوں کو روک لیا جائے لہذا تمام گھوڑے بھی روک دئیے گئے اور ایک ایک کر کے ان گھوڑوں کو ریس سے باہر نکال دیا زمبابوے کی عوام بڑی پریشان ہوئی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اگر آپ کا گدھا ریس جیت نہیں سکتا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے زمبابوے کے اداروں نے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اور کہا جو ہمارے خلاف بات کرے اسے بھی جیل میں بند کر دو کچھ کو اٹھا لیا گیا اور باقیوں کو خاموش کرا دیا گیا مرتے کیا نہ کرتے زمبابوے کے لوگ چپ کر کے تماشا دیکھنے لگے اب میدان صاف تھا اور گدھا اکیلا ریس کے لیے تیار کھڑا تھا ریس شروع ہو گئی لیکن گدھا ٹس سے مس نہ ہوا بڑی مشکل سے گدھے کو گھسیٹ کر اختتامی لائن تک پہنچایا اور گدھا جیت گیا کتنے دنوں تک زمبابوے میں جشن کا سماں رہا لیکن زمبابوے کی عوام نے اپنے اداروں کو صرف اتنا کہا کہ بلاشبہ آپ اس ملک کے طاقتور ادارے ہیں آپ سے عوام مقابلہ نہیں کر سکتے اور آپ کا گدھا ریس بھی جیت گیا ہے لیکن جیتنے کے بعد بھی گدھا گدھا ہی رہے گا گھوڑا نہیں بن سکتا. یہ کہانی زمبابوے کی ہے کوئی غلط مطلب نہ نکالے ۔
جمعرات, نومبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ

