دیکھو! میری بات مانو ، ہم خاموشی سے اماں کو کہیں دور چھوڑ آتے ہیں، جس کسی کو ملیں گی، وہ بزرگ جان کر ان کی حالت دیکھتے ہوئے کسی پاگل خانے تک پہنچا آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ تو صحیح ہے ، یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟
"اس نے بیوی کی بات پر اسکی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا”
ٹھیک کہہ رہی ہوں میں، جذباتی مت بنو اور میری بات پر غور کرو، اگر ہم خود اماں کو کسی پاگل خانے داخل کروا دیں گے تو دوست، رشتے دار طعنے دے دے جینا حرام کر دیں گے ہمارا، کہیں گے بوڑھی ماں کو اس عمر میں گھر سے نکال دیا، لوگوں کو تو بس باتیں بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہیں کیا خبر کہ بگڑے ہوئے ذہنی توازن کے ساتھ ایک بزرگ کی دیکھ بھال کرنا کتنا کٹھن ہے۔ ویسے بھی بڑی بی کی ایسی حالت میں کسی نے ان سے کیا فائدہ اٹھا لینا ہے ، خاموشی سے کہیں چھوڑ آئیں گے تو کوئی ترس کھا کر اصل ٹھکانے تک پہنچا ہی دے گا اماں جی کو۔۔۔۔۔۔
"اس نے نہایت بےحسی برتتے ہوئے سرد و سفاک لہجے میں شوہر کو قائل کرنا چاہا”
وہ شخص جو اس گھناؤنی سازش میں شریک ہونے جا رہا تھا یقیناً اس کی رگوں میں ماں کی محبت منجمد ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

