دیکھو! میری بات مانو ، ہم خاموشی سے اماں کو کہیں دور چھوڑ آتے ہیں، جس کسی کو ملیں گی، وہ بزرگ جان کر ان کی حالت دیکھتے ہوئے کسی پاگل خانے تک پہنچا آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ تو صحیح ہے ، یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟
"اس نے بیوی کی بات پر اسکی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا”
ٹھیک کہہ رہی ہوں میں، جذباتی مت بنو اور میری بات پر غور کرو، اگر ہم خود اماں کو کسی پاگل خانے داخل کروا دیں گے تو دوست، رشتے دار طعنے دے دے جینا حرام کر دیں گے ہمارا، کہیں گے بوڑھی ماں کو اس عمر میں گھر سے نکال دیا، لوگوں کو تو بس باتیں بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہیں کیا خبر کہ بگڑے ہوئے ذہنی توازن کے ساتھ ایک بزرگ کی دیکھ بھال کرنا کتنا کٹھن ہے۔ ویسے بھی بڑی بی کی ایسی حالت میں کسی نے ان سے کیا فائدہ اٹھا لینا ہے ، خاموشی سے کہیں چھوڑ آئیں گے تو کوئی ترس کھا کر اصل ٹھکانے تک پہنچا ہی دے گا اماں جی کو۔۔۔۔۔۔
"اس نے نہایت بےحسی برتتے ہوئے سرد و سفاک لہجے میں شوہر کو قائل کرنا چاہا”
وہ شخص جو اس گھناؤنی سازش میں شریک ہونے جا رہا تھا یقیناً اس کی رگوں میں ماں کی محبت منجمد ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

