شاکر میاں کیسے ہو
اب کے تو بیس دن بعد تمہارا خط پڑھنے کوملا۔عید سے تین چارروز پہلے ایک دستی خط ذاکر کے ہاتھ موصول ہوااوربس۔ ۔اب تو عید گزرے بھی 15دن ہوگئے۔ تمہارے خط سے تمہاری ”عید “ کااحوال پڑھا۔۔اپنی ”عید“ کاتذکرہ میں ایک خط میں پہلے ہی کرچکاہوں۔ تمہارے حالات پڑھ کر دکھ ہوا اورعبرت بھی حاصل کی۔ خدا معلوم ہم سادہ دل بندے کیاخطا کربیٹھے کہ ایسے دن دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ زندگی نام ہی تجربات کا ہے ۔اگر ایسے ہی تجربات زندگی کاحاصل ہیں تو پھر یہ زندگی باعث شرمندگی ہے۔ ہم تو زندگی کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں کہ ”زندگی ایک سفر ہے اور سفر میں روزہ معاف ہے“۔کیوں بھئی روزے نہ رکھنے کاکیسا جواز ہے؟
میں نے عید سے پہلے دو خط پوسٹ کیے تھے اوراس خط سے پہلے بھی ایک ارسال کرچکا ہوں۔ یعنی تین خط تمہاری طرف واجب الادا ہیں۔ دیکھو کون سے ملتے ہیں اورکون سے نہیں۔ اے سعودی عرب کے ڈاک ہرکارو تمہیں اب میں کیا کہوں۔
میری نئی مصروفیت آج کل یہ ہے کہ اپنی غزلیں، نظمیں،ہائیکو وغیرہ ترتیب دے رہاہوں۔ مسودہ سحرصاحب کے حوالے کروں گا کہ کون سی غزل شامل ہونی چاہیے اورکسے روک دیاجائے۔کوئی فنی خامی بھی ہوئی تو وہ دور کردیں گے۔سوچ رہا ہوں آہستہ آہستہ کتابت شروع کراﺅں ۔کوئی پچیس تیس غزلیں اور اتنی ہی نظمیں ہوں تو کتاب بن جائے گی۔ آج سے تیاری کروں گا تو ڈیڑھ دوسال میں کام مکمل ہوگا ۔میری رفتار تو تم جانتے ہو۔ ہوتل بابا والا کالم آخر میرے ذمے پڑگیا۔اب لوگوں کوشک پڑتا ہے تو پڑتا رہے۔ ہم کسی کے گھر سے تھوڑا کھاتے ہیں۔
اے بی اشرف صاحب آج کل لاہور آئے ہوئے ہیں ۔وہ انور سدید صاحب کو کہہ رہے تھے کہ ایسا کالم صرف رضی لکھ سکتا ہے۔ لاہور میں اعتبار ساجد کے ساتھ گپ شپ رہی ۔ایک دومشاعروں میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ یہ شہر آج کل تنور بناہوا۔ سخت گرمی ،لو اور حبس ۔دفتر میں اے سی لگا ہوا ہے مگر وہ بھی ڈی سی ہوگیا ہے۔ ”ڈی سی سے مراد ڈس کنیکٹ“۔
مولوی آج کل بارش کے لیے اذانیں دے رہے ہیں۔ جب بارشیں شروع ہوں گی تو پھر یہ بارشوں کی بندش کے لیے بھی اذانیں دیں گے۔
والسلام ،تمہارا رضی
23جون1986
اب کے تو بیس دن بعد تمہارا خط پڑھنے کوملا۔عید سے تین چارروز پہلے ایک دستی خط ذاکر کے ہاتھ موصول ہوااوربس۔ ۔اب تو عید گزرے بھی 15دن ہوگئے۔ تمہارے خط سے تمہاری ”عید “ کااحوال پڑھا۔۔اپنی ”عید“ کاتذکرہ میں ایک خط میں پہلے ہی کرچکاہوں۔ تمہارے حالات پڑھ کر دکھ ہوا اورعبرت بھی حاصل کی۔ خدا معلوم ہم سادہ دل بندے کیاخطا کربیٹھے کہ ایسے دن دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ زندگی نام ہی تجربات کا ہے ۔اگر ایسے ہی تجربات زندگی کاحاصل ہیں تو پھر یہ زندگی باعث شرمندگی ہے۔ ہم تو زندگی کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں کہ ”زندگی ایک سفر ہے اور سفر میں روزہ معاف ہے“۔کیوں بھئی روزے نہ رکھنے کاکیسا جواز ہے؟
میں نے عید سے پہلے دو خط پوسٹ کیے تھے اوراس خط سے پہلے بھی ایک ارسال کرچکا ہوں۔ یعنی تین خط تمہاری طرف واجب الادا ہیں۔ دیکھو کون سے ملتے ہیں اورکون سے نہیں۔ اے سعودی عرب کے ڈاک ہرکارو تمہیں اب میں کیا کہوں۔
میری نئی مصروفیت آج کل یہ ہے کہ اپنی غزلیں، نظمیں،ہائیکو وغیرہ ترتیب دے رہاہوں۔ مسودہ سحرصاحب کے حوالے کروں گا کہ کون سی غزل شامل ہونی چاہیے اورکسے روک دیاجائے۔کوئی فنی خامی بھی ہوئی تو وہ دور کردیں گے۔سوچ رہا ہوں آہستہ آہستہ کتابت شروع کراﺅں ۔کوئی پچیس تیس غزلیں اور اتنی ہی نظمیں ہوں تو کتاب بن جائے گی۔ آج سے تیاری کروں گا تو ڈیڑھ دوسال میں کام مکمل ہوگا ۔میری رفتار تو تم جانتے ہو۔ ہوتل بابا والا کالم آخر میرے ذمے پڑگیا۔اب لوگوں کوشک پڑتا ہے تو پڑتا رہے۔ ہم کسی کے گھر سے تھوڑا کھاتے ہیں۔
اے بی اشرف صاحب آج کل لاہور آئے ہوئے ہیں ۔وہ انور سدید صاحب کو کہہ رہے تھے کہ ایسا کالم صرف رضی لکھ سکتا ہے۔ لاہور میں اعتبار ساجد کے ساتھ گپ شپ رہی ۔ایک دومشاعروں میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ یہ شہر آج کل تنور بناہوا۔ سخت گرمی ،لو اور حبس ۔دفتر میں اے سی لگا ہوا ہے مگر وہ بھی ڈی سی ہوگیا ہے۔ ”ڈی سی سے مراد ڈس کنیکٹ“۔
مولوی آج کل بارش کے لیے اذانیں دے رہے ہیں۔ جب بارشیں شروع ہوں گی تو پھر یہ بارشوں کی بندش کے لیے بھی اذانیں دیں گے۔
والسلام ،تمہارا رضی
23جون1986

