جب ایسٹ پاکستان کا فال ہوا تولوگوں کو جنرل یحییٰ خان پر بہت غصہ تھا ، اگر انہیں لوگوں کے حوالے کر دیتے تو لوگ ان کی تکہ بوٹی کر دیتے۔ میری ڈیوٹی پشاور تھی اور پشاور میں یحییٰ خان کا گھر تھا۔ لوگ بہت غصے میں تھے وہ جلوس نکالنا چاہتے تھے اور یحییٰ خان کا گھر جلانا چاہتے تھے۔ جلوس نکلا لیکن پولیس کی طرف سے کسی کارروائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایک سیاسی پارٹی (جماعت اسلامی) نے جلوس کا رخ شراب خانوں کی طرف موڑ دیا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ یحییٰ کا قصور نہیں، اصل قصور شراب کا ہے۔ لوگوں نے شراب کی دکانیں توڑیں۔ یہ ایک عجیب قصہ ہوا۔ جلوس بجائے بنگلہ دیش کے قیام کے خلاف ہوتا، وہ شراب کے خلاف ہو گیا۔ اس طرح وہ سارا دن شراب کی دکانیں توڑتے رہے، بوتلیں پیتے بھی رہے اور توڑتے بھی رہے یہاں تک کہ پشاور کے کتے بھی مدہوش ہو گئے
۔راؤ رشید کی کتاب ” جو میں نے دیکھا‘‘ سے اقتباس
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

