پشاور : ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ رکھنے کے عزم کے ساتھ وزارت مذہبی امور نے رمضان المبارک 1446ھ کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس 28 فروری جمعہ کو پشاور میں طلب کر لیا۔سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ 28 فروری کوپشاور میں طلب کیے گئے اجلاس کی صدارت چیئر مین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد کریں گے۔اجلاس میں کمیٹی کے ممبران کے علاوہ زونل کمیٹی پشاور کے ذمہ داران بھی شریک ہوں گی اور رویت کے مطابق ملک میں یکم رمضان المبارک کی بابت فیصلہ کریں گے۔
پشاور میں ہونے والے مرکزی اجلاس کی معاونت کے لیے لاہور، اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ملک میں رمضان المبارک1446ھ کا چاند دکھائی دینے یا نہ دکھائی دینے کی بابت مرکزی اجلاس کی معاونت کریں گے۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والے زونل رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب کریں گے۔
واضح رہے کہ 24 فروری کو پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے رمضان المبارک کے حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں چاند 28 فروری کو نظر آنے کا امکان کم ہے۔ترجمان سپارکو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں رمضان المبارک 2 مارچ سے شروع ہونے کا امکان ہے جب کہ سعودی عرب میں 28 فروری کو چاند نظر آسکتا ہے، یکم مارچ کو پہلا روزہ ہوگا۔
جمعرات, اکتوبر 29, 2026
تازہ خبریں:
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی

