کوئٹہ :بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جشن فتح پاکستان جلسے میں شرکت کے لیے آنے والی ایک ریلی پربم حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور11 زخمی ہوگئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بم حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بم حملے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
بم حملہ سریاب کے علاقے میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلی پر کیا گیا۔جب علی مدد جتک کی قیادت میں ریلی کے شرکا میر منیر مینگل روڈ کے سنگم پر پہنچے تو وہاں زور دار دھماکہ ہوا۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی موت جائے وقوعہ پر ہوئی تھی ۔ایم ایس کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر دھماکے کے حوالے سے 12 زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک تھی۔ شدید زخمیوں سے ایک دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ ٹراما سینٹر کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ڈاکٹر مہراللہ بادینی نے کہا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ دستی بم کا حملہ تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علی مدد جتک کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی قیادت پر حملے دراصل بلوچستان کے امن پر وار ہیں۔ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف سخت اور نتیجہ خیز کارروائی ہو گی۔واضح رہے کہ جشن فتح پاکستان جلسہ حکومت بلوچستان کی جانب سے سول سیکریٹریٹ کوئٹہ کے ساتھ ریلویز ہاکی گرائونڈ میں منعقد کیا گیا تھا۔اس جلسے کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ گذشتہ رات سے ہاکی گراؤنڈ کے گردونواح کے سڑکوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا تھا جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )
Previous Articleنصرت جاوید کا تجزیہ : مودی کا اپنی "قوم پرست خودمختاری” کا ڈرامہ
Next Article سہیل وڑائچ کا کالم : جنگ اور جنگل

