پاکستان میں جابجا تیل کی غیر قانونی ایجنسیاں پھیلی ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں کہ ان کی غیر منافع بخش اور مضر انسانی صحت سرگرمیوں کو قابو کرنا کسی انتظامی محکمے کے بس کی بات نہیں۔ تیل اور کھاد کی غیر منظور ایجنسیاں کسی گمنام، صحرائی ، پہاڑی یا دیہی علاقوں میں نہیں بلکہ شہری گنجان آباد علاقوں میں ایرانی پیٹرول اور ملاوٹ شدہ دو نمبرکھادیں فروخت کرتی ہیں ۔ چونکہ ان کے نام کے ساتھ لفظ ایجنسی لگا ہے اس لیے متعلقہ ضلع کے ڈی سی یا تحصیل کے اے سی ان پر ہاتھ ڈالتے ہوئے لرز جاتے ہیں حالانکہ ان ایجنسیوں کو چلانے والے مقامی افراد سے سب واقف ہوتے ہیں۔ خبر نہیں کیوں افسرانِ محکمہ جات ” ایجنسی “ کی تنصیب اور اس کی سرگرمیوں بارے ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی طاقتور ہاتھ ہے۔ اسی شش و پنج میں کہ و ہ طاقتور ہاتھ کس کا ہے؟ وہ ایجنسیاں مزے سے اور مزید کاروائیاں ڈالنے میں مشغول رہتی ہیں۔ ایجنسی مالکان بھی اسی ” اندھے اعتماد“ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
کھاد اور تیل کی یہ ایجنسیاں اب تک اربوں روپے کے انجن ناکارہ کرچکی ہیں اور دو نمبر کھاد زرخیز زمینوں کو بنجر کرچکی ، فصلوں کی تباہی سے کاشتکاروں کا مالی استحصال اس سے الگ ہے۔ اس علانیہ تباہی کے باوجود کوئی اس مافیا سے این او سی مانگ سکتا ہے اور نہ ہی اجازت نامہ۔ کس نے منظوری دی؟ کون اجازت دیتا ہے؟ کس کے کہنے پر اپنا مفاد حاصل کرنے کے لئے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں؟ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ہر طرف ایک خوف ہے جوان کے نام کی وجہ سے مسلط ہے۔ تحصیل کے انتظامی افسر اپنے ” لاپتہ “ ہونے سے ڈرتے ہیں اور ان پر ہاتھ نہیں ڈالتے ۔ ضلع کے ڈی سی کو خوف ہے کہ اگر ان کی غیر قانونی ایجنسیوں کو بند کرایا گیا تو راتوں رات اس کے خلاف غداری کے سرٹیفیکیٹ شہر بھر کے چوراہوں پر آویزاں کردیے جائیں گے۔ علمائے کرام مفتیان تو بس اس انتظارمیں ہوتے ہیں کہ کوئی ایجنسی ان سے فتوی طلب کرے چاہے وہ ایجنسی کسی تیل یا کھاد کی ہی کیوں نہ ہو۔ عدالتیں لفظ ایجنسی سنتے ہی فائل کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کردیتی ہیں ، اخبارات اپنے اشتہارات بند ہوجانے کے ڈر سے خبریں شائع نہیں کرتے مگر اصل بات کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ ایجنسیاں باجوڑ یا مہمند ایجنسیاں نہیں ایرانی تیل اور ملاوٹ شدہ کھاد بیچنے والی دکانیں ہیں ۔ ہم حکومت پاکستان یا جو بھی حکومت کے اختیارات رکھتا ہے سے ملتمس ہیں کہ وہ ایک ترمیمی حکمنامے کے ذریعے تیل فروشوں کو تبدیلی نام کا حکم جاری کریں اور آئل مرچنٹ، زہر فروش یا کھاد نگر جیسے نام رکھنے کا پابند کریں تاکہ ان کے خلاف فوجداری، انتظامی یا عدالتی کارروائی کرتے ہوئے کسی افسر مجاز کی ٹانگیں نہ تھرتھرائیں بلکہ انہیں یقین ہو کہ اب کوئی لاپتہ نہیں ہوگا، کوئی ماورائے آئین نظر بند نہیں کیا جائے گا، کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جائے گی ، کوئی بھی ذلیل و رسوا نہیں ہوگا، کسی کے خلاف نامعلوم ناموں سے بینرز اور پوسٹرز آویزاں نہیں ہونگے ، کوئی توہین مذہب و ملت کی زد میں نہیں آئے گا۔
اگر ہمیں زمینوں کے ساتھ ساتھ اپنے ذہنوں کو غیر آباد اور بنجر ہونے سے بچانا ہے تو جا بجا کھلی ہوئی تیل اور کھاد کی ایجنسیوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ مخصوص اشیائے ضرورت بیچتے ہوئے ان کی گاڑیوں کے کالے شیشوں سے سیاہ پیپرز اتارنا ہونگے۔ گاڑیوں کی نمبرز پلیٹ پر نظر رکھنا ہوگی ، ان کے کارکنان کے لئے کوئی خاص وردی بطور شناخت پہنانا ہوگی تاکہ ہم اپنے اندر موجود تیل اور کھاد فروشوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اب تو ہم پہچان بھی نہیں سکتے کہ ہمارے درمیان بیٹھا شخص ہماری زمینوں کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت کی مدد سے ذہن بھی بنجرکرنے پر تلا ہے۔
ہم جو ہر وقت ، ہر لمحے ، ہر دن انہی ایجنسیوں کے حصار میں ہیں مگر کوئی ادارہ ، کوئی ملک ، کوئی انتظامیہ ، کوئی قانون ان سے تحفظ دینے پر تیار نہیں کیونکہ بے بسی کا ایک بے ہوش کرنے والا پاﺅڈر سب کے چہروں پر چھڑکا دیا گیا ہے۔ خوف کی ایک سیاہ شیشوں والی عینک آنکھوں پر مسلط ہے اور ذہن سوچنے سے عاری ہیں۔ ایسے حبس زدہ ماحول اور منجمد ہوتے موسم میں کوئی تو ہو جو ہمیں تحفظ دے۔ بات کرنے کا تحفظ، سوچنے کا تحفظ، کاروبار کا تحفظ، لکھنے کا تحفظ اور اپنے ملک میں زندگی گزارنے کا تحفظ جو ہمارا وہ حق ہے جو ہمیں آئین دیتا ہے ۔یہی تحفظ مانگتے مانگتے کتنے عوام گمنام ہوئے اور کتنے سیاست دان غدار ، ایٹمی سائنسدان کو اس کے اسی ملک میں قید رکھا جارہا ہے جس ملک کے تحفظ کے لئے اس نے اپنی آسائشوں بھری مغربی دنیا چھوڑی ۔
ہم کب تک ایرانی تیل کی سمگلنگ سے لٹتے رہیں گے اور قسطوں پر لی گئی گاڑیوں کے انجن ناکارہ ہوتے رہیں گے؟ اور کب تک ملاوٹ شدہ کھادیں ہماری فصلوں سے محنت کا پھل چاٹتی رہیں گی؟ اور کب تک بے آباد ہوتے سبزے کو خشک ہوتا دیکھتے رہیں گے؟ کیونکہ ان پر ہاتھ ڈالنے والا جب خود عدم تحفظ کا شکارہوگا تو پھر منہ زور گھوڑے ہماری بے بسی کے دشت اور دریا دونوں پر دوڑائے جاتے رہیں گے۔
کھاد اور تیل کی غیر قانونی ”ایجنسیاں“ اور محکمہ زراعت : صدائے عدل / قیصر عباس صابر
ایڈیٹر2 Views
Previous Articleآئی ایم ایف کا تجویز کردہ نیا قانون ۔۔نصرت جاوید
Next Article ابرِ شفق آلودہ کی قسم۔یہ سب سچ ہے۔۔کشور ناہید

