نیو یارک : نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس سے خطاب میں مطالبہ کیا ہے کہ ہندوتوا انتہاپسندی سے متاثر سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کا انسداد کیا جائے اور کشمیر کو پاک-بھارت امن کی بنیاد قرار دیا۔
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جدید تاریخ کے نازک موڑ پر مل رہے ہیں، یوکرین میں تنازع جاری ہے اور دنیا کے دیگر 50 مقامات پر بھی تنازعات ہیں، عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں نئے اور پرانے عسکری بلاکس اور جیو پالیٹکس ہو رہی جب معیشت کو اولیت ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا سرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس سے کئی زیادہ خطرناک چینلجز کا سامنا ہے، جس کے لیے عالمی تعاون اور مشترکہ کارروائیوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت تنزلی کا شکار ہے، بدترین انٹرسٹ ریٹ کساد بازاری کا باعث ہوسکتی ہے، کوڈ، تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی سے کئی ممالک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے اور متعدد ممالک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ غربت اور بھوک میں اضافہ ہوگیا ہے، 3 دہائیوں کی ترقی کے فائدے تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں، ڈیولپمنٹ کے لیے ہمیں پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول یقینی بنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوپ 28 میں کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سالانہ کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے بدترین متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، گزشتہ برس آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آیا اور 1700 افراد جاں بحق ہوئے اور 80 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے، انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کے بحالی اور تعمیر کے پروگرام کے لیے 10.5 ارب ڈالر سے زائد کے وعدوں کے حوالے سے پرامید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہمارے ترقیاتی شراکت دار ہماری بحالی کے پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی کو ترجیح دیں گے، جس سے 30 ارب ڈالر نقصان ہوچکا ہے۔

