اسلام آباد:پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے اہم قانون سازی کی دستاویزات کُتر کُتر کر ضائع کرنے والے چوہوں سے چھٹکارا پانے کے لیے بالآخر مدد مانگ لی گئی ہے۔
پارلیمنٹ میں چوہوں کی موجودگی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزارت برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی قائمہ کمیٹی نے ایک پبلک کمیٹی کا سنہ 2008 کا ریکارڈ طلب کیا۔ لیکن جب یہ ریکارڈ ڈھونڈنے کے لیے حکام ریکارڈز روم میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ریکارڈ کا زیادہ تر حصہ تو چوہے کتر چکے ہیں۔۔۔
اس معاملے کو قومی اسمبلی کے سپیکر کے نوٹس میں لایا گیا اور انھوں نے اسلام آباد میں ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں ہدایات جاری کیں کہ اس کے سدباب کے لیے متعلقہ محکمے کو آگاہ کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے ترجمان ظفر سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ تر چوہے پارلیمنٹ ہاؤس کے فرسٹ فلور پر ہیں جہاں کمیٹی رومز واقع ہیں۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

