اسلام آباد:پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے اہم قانون سازی کی دستاویزات کُتر کُتر کر ضائع کرنے والے چوہوں سے چھٹکارا پانے کے لیے بالآخر مدد مانگ لی گئی ہے۔
پارلیمنٹ میں چوہوں کی موجودگی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزارت برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی قائمہ کمیٹی نے ایک پبلک کمیٹی کا سنہ 2008 کا ریکارڈ طلب کیا۔ لیکن جب یہ ریکارڈ ڈھونڈنے کے لیے حکام ریکارڈز روم میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ریکارڈ کا زیادہ تر حصہ تو چوہے کتر چکے ہیں۔۔۔
اس معاملے کو قومی اسمبلی کے سپیکر کے نوٹس میں لایا گیا اور انھوں نے اسلام آباد میں ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں ہدایات جاری کیں کہ اس کے سدباب کے لیے متعلقہ محکمے کو آگاہ کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے ترجمان ظفر سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ تر چوہے پارلیمنٹ ہاؤس کے فرسٹ فلور پر ہیں جہاں کمیٹی رومز واقع ہیں۔
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی

