Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, ستمبر 20, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
  • ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
  • پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
  • مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
  • کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
  • اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
  • کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
  • مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
  • ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » مودی کی مکاری اور شاہ محمود قریشی کی سادگی: برملا / نصرت جاوید
لکھاری

مودی کی مکاری اور شاہ محمود قریشی کی سادگی: برملا / نصرت جاوید

ایڈیٹراگست 23, 20181 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
pakistan politics ,columns of nusrat javaid at girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

تحریک انصاف کے خیرخواہوں میں ایسے کئی لوگ بھی شامل ہیں جنہیں برسوں تک پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ ان میں سے دو افراد بھارتی حکومت کے ساتھ براہِ راست معاملات سنبھالتے رہے ہیں۔ میں ان کے نام لئے بغیر بہت وثوق سے یہ اطلاع بھی دے رہا ہوں کہ وہ جب چاہیں عمران خان صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکتے ہیں۔
ریٹائر ہوئے سفارت کاروں کے علاوہ خان صاحب کی جماعت میں میرے دوست شفقت محمود بھی شامل ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1993میں دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہیں نواب زادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں کام کرنے والی کشمیر کمیٹی کا رکن نامزد کیا تھا۔ اس کمیٹی نے کشمیر کاز کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے بہت محنت سے کام کیا تھا اور اس کی کاوشوں کی بدولت ہی بالآخر اسلامی ممالک کی تنظیم۔ OIC۔ کشمیر کی آل پارٹیز حریت کانفرنس کو اپنے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت میں مدعو کرنے پر راضی ہوئی۔
اس روایت کی ابتداءمراکش کے شہر کاسابلانکا سے ہوئی تھی جہاں میرواعظ عمر فارووق بھی تشریف لائے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کی آمد کو اپنی بہت بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا۔ اس کے بارے میں شاداں محسوس کرتے ہوئے مجھے مجبور کیا کہ میں ان کے ہمراہ مراکش میں اسلامی کانفرنس کے اجلاس کی رپورٹنگ کرنے جاؤں اور وہاں میر واعظ عمرفاروق کی آمد پر خاص توجہ دوں۔
شفقت صاحب کے علاوہ شاہ محمود قریشی بھی ہیں۔ گیلانی صاحب کی 2008 میں قائم ہونے والی حکومت کے وزیر خارجہ رہے۔ ان ہی کے زمانے میں ممبئی والا واقعہ بھی ہوا تھا۔ شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود کے ہوتے ہوئے عمران خان صاحب کو پاک۔ بھارت تعلقات کی پیچیدگیاں سمجھنے کے لئے کسی غیر کی ہرگز ضرورت نہیں۔
ان دونوں حضرات کے ہوتے ہوئے بھی لیکن 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد سے تحریک انصاف نے بھارت کے بارے میں جو ماحول بنایا وہ قطعاََ بچگانہ خواہشات پر مبنی تھا۔ نئے وزیر خارجہ کا حلف اٹھانے کے بعد حتیٰ کہ شاہ محمود قریشی صاحب نے بھی پیر کے روز اپنی وزارت میں لوٹ آنے کے بعد کیمرے کے سامنے فرطِ جذبات میں چند ایسے کلمات کہے جنہیں بھارتی میڈیا نے روایتی بغض کے ساتھ اپنے لوگوں کے سامنے رکھا۔
بالآخر بھارتی وزارتِ خارجہ کو میڈیا میں موجود اپنے ”ترجمانوں“ کے ذریعے بہت رعونت سے یہ وضاحت کرنا پڑی کہ نریندر مودی پاکستان سے مذاکرات کرنے کو ہرگز بے تاب نہیں۔ یہ مذاکرات اگر ہوئے بھی تو موضوع ان کا صرف اور صرف ”بھارت میں پھیلائی دہشت گردی“ ہوگی۔ جواباََ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو ایک باقاعدہ بیان جاری کرنا پڑا۔ اس میں وضاحت ہوئی کہ شاہ محمود قریشی صاحب نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم کو مبارکباد کی چٹھی لکھتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین باضابطہ مذاکرات کا عمل بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بنی گالہ میں عمران خان صاحب کی مصروفیات کو میڈیا کے لئے بیان کرنے والے بقراطوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس مختصر بیان کا بغور جائزہ لیتے جو بھارتی حکومت نے نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کو 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دینے کے لئے جاری کیا تھا۔ اس بیان میں بہت مکاری سے یہ وضاحت ہوئی کہ ”بھارتی وزیر اعظم“ نے ”تحریک انصاف کے سربراہ“ کو فون کیا تھا۔ ”مبارک بادی“ کے اس پیغام کے ذریعے بھی مربیانہ انداز میں اس بات کو سراہا گیا کہ ”پاکستان میں جمہوری عمل“ مضبوط ہورہا ہے۔ سفارتی زبان میں اسے پیٹرنائزنگ ٹونگ کہا جاتا ہے اور کوئی خوددار ملک یا شخص اس ٹون کو ہضم نہیں کرسکتا۔
اس ٹون میں مضمرمکاری کو سمجھے بنا مگر یہ باور کرلیا گیا کہ شاید نریندر مودی کی یہ خواہش ہے کہ اسے پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری کے لئے مدعو کیا جائے۔ 2014میں بھارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد مودی نے سارک ممالک کے سربراہان کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تھا۔ نواز شریف وہاں تشریف لے گئے اور بعدازاں ”مودی کا یار“ کہلائے۔
خدا بھلا کرے ہماری وزارتِ خارجہ کے چند افسروں کا جو تحریک انصاف کے بقراطوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ عمران خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب کے دوران مودی کی جانب سے سیٹ کی گئی روایت کے اتباع کی ضرورت نہیں۔ سارک تنظیم اس وقت ویسے بھی مفلوج ہوچکی ہے اور وجہ اس کی بنیادی طور پر بھارت کا وہ فیصلہ ہے جس کے ذریعے اسلام آباد میں معمول کے مطابق ہونےوالی سارک سربراہی کانفرنس میں مودی نے آنے سے انکار کردیا تھا۔ اس تنظیم کی بحالی کے لئے ضروری ہے کہ اسلام آباد ہی میں سارک ممالک کے سربراہان کا اجلاس منعقد ہو۔
عمران خان صاحب کی تقریب حلف برداری میں کرکٹرسدھو کی آمدکو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ہمارے کئی ”اندر کی خبر“ رکھنے کے دعوے دار دوست بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتے پائے گئے ہیں کہ شاید اس کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے مابین بیک ڈور سفارت کاری کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ بقول ان دوستوں کے میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل اس عمل کے ذریعے شاید آئندہ چند مہینوں میں کچھ ”ڈرامائی“ ملاقاتیں بھی ہوسکتی ہیں۔
سفارت کاری کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے میں بہت اعتماد کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین فی الوقت ٹھوس مذاکرات کے احیاءکا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ وجہ اس کی بنیادی طورپر بھارت میں آئندہ سال ہونے والے انتخابات ہیں۔ نئی دلی میں یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ مودی شاید قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرکے اپنی بکھری ہوئی اور کمزور اپوزیشن کو حیران وپریشان کرسکتا ہے۔
آج سے 5 سال قبل انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی اپنی ” 54 انچ کی چھاتی“ پر بہت نازاں محسوس کرتا تھا۔ اس کا وعدہ تھا کہ اپنے دورِ اقتدار میں وہ ”پاکستان کو سیدھا کردے گا“۔ وہ اس مقصد میں ناکام رہا۔ اس ناکامی کے ہوتے ہوئے وہ پاکستان کے ساتھ فوری مذاکرات کے ذریعے ایسی کوئی شے حاصل کر ہی نہیں سکتا جو اس کی چھاتی کو ” 54انچ چوڑا“ ثابت کرسکے۔ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کو لہذا فی الوقت بھول جائیں۔
(بشکریہ :روزنامہ نوائے وقت)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعمران خان کی تقریر، مغالطے اور خوابوں کی دنیا ۔۔ سید مجاہد علی
Next Article عالمی شہرت یافتہ بھارتی صحافی کلدیپ نائر انتقال کرگئے
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی

ستمبر 20, 2026

ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

ستمبر 20, 2026

پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم

ستمبر 19, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی ستمبر 20, 2026
  • ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم ستمبر 20, 2026
  • پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم ستمبر 19, 2026
  • مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم ستمبر 18, 2026
  • کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی ستمبر 18, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.