راول پنڈی : پاک فوج نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو انتہائی نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن امن کے راستے پر چلیں گے کیونکہ پاکستان کو معلوم ہے کہ امن کی قیمت کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لیے تیار نہ ہو۔پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، ہمیں معلوم ہے کہ امن کی قیمت کیا ہے، پاکستان نے گزشتہ 2 دہائیوں میں امن قائم کیا۔ترجمان پاک فوج نے بھارت کی جانب سے ان کی فوجی کی لاش کی بے حرمتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی فوجی کی بے حرمتی نہیں کرتے خوا وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج اپنی ملک کی سیاست میں گِھری ہوئی ہے اور انڈین آرمی چیف کا بیان انتہائی نامناسب ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، خطے کے امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے، امن پسندی کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بھارتی آرمی چیف کو ماضی کی نشاندہی کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگا ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت سرجیکل اسٹرائیک کا ثبوت اپنی پارلیمنٹ میں نہیں دے سکا، انڈیا جتنی بھی کوشش کرلے، جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہی رہے گا۔میجر جنرل آصف عفور کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے۔
جمعہ, اکتوبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

