لندن : ’ہم ہمارے حکمرانوں کو ایوانوں میں لے تو آتے ہیں ووٹ دے کر لیکن آج تک ہم نے یاد نہیں رکھا کہ وہ کون سے وعدے کر کے ایوان میں آئے تھے اور کیا ایوان میں آنے کے بعد انھوں نے ان وعدوں کو پورا کیا‘۔ پاکستان کے ایک شہری سلمان سعید نے اس دلیل کے ساتھ ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس کا نام ہے ’خان میٹر ڈاٹ کام‘۔ویب سائٹ کے تعارف میں انھوں نے اپنے آپ کو جمہوریت کا ایک ادنیٰ کارکن کہا ہے۔ ’خان میٹر‘ کے فیس بک پیج پر اپنے وڈیو بیان میں سلمان نے مزید کہا کہ ووٹروں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر حکمرانوں نے وعدے پورے کیے تو اس سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوا اور اگر وہ وعدے پورے نہیں ہوئے اس کی کیا وجہ تھی۔ویب سائٹ بنانے کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ انھوں نے نئے پاکستان کے لیے ووٹ دیا اور اب اس کو حاصل کرنا بھی ان کا کام ہے اور حکومت کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ویب سائٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایک سو دنوں میں مختلف شعبوں میں کیے گئے وعدوں کا حساب رکھا جائے گا اور جوں جوں ویب سائٹ بنانے والوں کی نظر میں کوئی وعدہ پورا ہو گا اس کا اندراج ہو جائے گا۔ اب یہ ویب سائٹ کتنی قابل اعتبار اور غیر جانبدار ہو گی اس کا فیصلہ تو وقت کے ساتھ ہی ہوگا۔’خان میٹر‘ پر لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ایک صاحب خان ذوالفقار نے لکھا کہ یہ تو پارٹی کی اپنی طرف سے بنائی گئی ویب سائٹ ہے جبکہ ان کے جواب میں وجیہ نے لکھا کہ اگر پی ٹی آئی نے خود بھی بنائی ہے تو اچھا اقدام ہے۔پھر جلال فدا نے لکھا کہ سو دن کے ایجنڈے کی تشریح انتہائی تنگ نظری سے کی جا رہی ہے۔ ستر سال کا گند ایک سال میں نہیں صاف ہو سکتا۔ ان کے جواب میں عثمان خلیل نے لکھا کہ ہم اس وعدے کو اس لیے سنجیدگی سے لے رہے ہیں کیونکہ انھوں نے یہ وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ان وعدوں کو سو دن میں پورا ہونے کی توقع نہیں کرتا لیکن ان پر کام شروع ہونا چاہیے ان میں سے کم سے کم ستر فیصد پر۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

