ملتان : معروف شاعر، ادیب ، دانش ور ، انگریزی ادب کے استاد پروفیسر شمیم عارف قریشی کو اتوار کے روز ان کے آبائی علاقے موضع بکھری ملتان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ ایمرسن کالج گراؤنڈ میں اد ا کی گئی جس میں ادیبوں ، شاعروں ، دانشوروں اور شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ پروفیسر شمیم عارف قریشی کی عمر 62 سال تھی اور وہ دو سال قبل ڈائریکٹر کالجز ملتان کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔ وہ عمر بھر شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ۔ شمیم عارف قریشی گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج کے پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ انہوں نے تعلیم و تدریس اور ادب کے علاوہ سرائیکی ثقافتی ااور قومی تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔ وہ سرائیکی لوک سانجھ کے بانی ممبران میں تھے ۔ سرائیکی مرثیہ و تہذیب ، جدید سرائیکی شاعری خصوصاً نظم پر ان کی تحریروں اور کافیوں پر مشتمل اکلوتا مجموعہ ” نیل کتھا “کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ وادی سندھ کی تہذیب و ثقافت ان کا پسندیدہ موضوع رہا ۔ ان کے والد غلام محمد خاکستر بھی سرائیکی شاعر تھے ۔ ملتان کے علمی و ادبی حلقوں نے ان کی وفات کو خطے کے محروم عوام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے کہ وہ ایک توانا آواز سے محروم ہو گئے ۔
جمعہ, نومبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور

