ملتان : معروف شاعر، ادیب ، دانش ور ، انگریزی ادب کے استاد پروفیسر شمیم عارف قریشی کو اتوار کے روز ان کے آبائی علاقے موضع بکھری ملتان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ ایمرسن کالج گراؤنڈ میں اد ا کی گئی جس میں ادیبوں ، شاعروں ، دانشوروں اور شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ پروفیسر شمیم عارف قریشی کی عمر 62 سال تھی اور وہ دو سال قبل ڈائریکٹر کالجز ملتان کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔ وہ عمر بھر شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ۔ شمیم عارف قریشی گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج کے پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ انہوں نے تعلیم و تدریس اور ادب کے علاوہ سرائیکی ثقافتی ااور قومی تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔ وہ سرائیکی لوک سانجھ کے بانی ممبران میں تھے ۔ سرائیکی مرثیہ و تہذیب ، جدید سرائیکی شاعری خصوصاً نظم پر ان کی تحریروں اور کافیوں پر مشتمل اکلوتا مجموعہ ” نیل کتھا “کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ وادی سندھ کی تہذیب و ثقافت ان کا پسندیدہ موضوع رہا ۔ ان کے والد غلام محمد خاکستر بھی سرائیکی شاعر تھے ۔ ملتان کے علمی و ادبی حلقوں نے ان کی وفات کو خطے کے محروم عوام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے کہ وہ ایک توانا آواز سے محروم ہو گئے ۔
اتوار, ستمبر 20, 2026
تازہ خبریں:
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
- ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

