راولپنڈی : انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا جبکہ دیگر 7 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا اور حنیف عباسی کو انتخابی سیاست کے لیے تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے۔انسداد منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم نے سنایا جنھوں حنیف عباسی و دیگر ملزمان کے خلاف ایفی ڈرین کوٹہ کیس کا فیصلہ 6 سال کے طویل عرصے کے بعد محفوظ کرلیا تھا جو تاخیر کا شکار اور رات کو 11 بجے کے قریب سنا دیا گیا۔عدالت نے حنیف عباسی کو مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تاہم ان کے ساتھ نامزد دیگر ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکناaن کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی جہاں فیصلے کے بعد حنیف عباسی کو گرفتار کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں تاہم انھیں کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا اور کچہری چوک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر چوہدری تنویر کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دے کر مخالفین کو شکست دیں گے کیونکہ ایک سیاسی یتیم کو جتوانے کے لیے جتن کیے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ حنیف عباسی راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-60 سے امیدوار تھے اور اب وہ انتخابات سے نااہل قرار دیے گئے ہیں جہاں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید مدمقابل تھے۔قبل ازیں انسدادِ منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے حنیف عباسی اور دیگر کے خلاف 2012 میں درج کیے گئے مقدمے کی سماعت کی، اس دوران حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال پیش ہوئے اور کیس پر دلائل دینے کا سلسلہ شروع کیا۔وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل پر الزام عائد کیا گیا جبکہ ایفی ڈرین منشیات کے زمرے میں نہیں آتی، مقدمے کا اندراج بھی ٹھیک نہیں ہوا کیونکہ اس کیس میں نائن سی کا مقدمہ قانونی طور پر بنتا ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) حکام ساتھ ساتھ یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ حنیف عباسی نے ایفی ڈرین کوٹہ کا غلط استعمال کیا۔وکیل تنویر اقبال نے کہا کہ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ شک کا فائدہ دیتے ہوئے کسی بھی ملزم کو ایسے کیس سے بری کیا جا سکتا ہے۔دورانِ سماعت وکیل حنیف عباسی نے کہا کہ اے این ایف ایفی ڈرین کے حوالے سے کوئی ایک مثال بتا دے کہ یہ غلط استعمال ہوئی جس پر عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ جتنا جلدی آپ اپنے دلائل مکمل کرلیں زیادہ بہتر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بجلی چلی جائے تو مشکل ہو گی۔عدالت نے استفسار کیا کہ اے این ایف اگر لیب میں ٹیسٹنگ کے لیے کوئی چیز بھجواتی ہے تو وہاں سے کیا رپورٹ آتی ہے؟ کیا لیب اس کا تعین کر سکتی ہے؟a
اتوار, ستمبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ

