قصور : زینب کا قاتل عمران قصور شہر میں کورٹ روڈ کا رہائشی اور سات سالہ زینب انصاری کا محلے دار ہےوہ عمران نقشبندی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا ۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زینب کے ماموں زاد بھائی مزمل انصاری نے بتایا کہ ان کے خاندان کا عمران سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم وہ اس کو جانتے ضرور تھے۔ زینب کے ماموں زاد بھائی مزمل انصاری کے مطابق عمران ان کے خاندان سے اچھی طرح واقف تھا۔ملزم نعت خوانی کے محفلوں میں نعتیں پڑھتا تھا لیکن اس کے پاس کوئی روزگار نہیں تھا۔ نعت کی محفلوں سے متعلق ایک کارڈ پر اس کا نام عمران علی نقشبندی لکھا ہے جس پر ایک پتہ بھی درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے بارے میں ان کے محلے میں یہ مشہور تھا کہ وہ چھوٹی موٹی چوریوں میں ملوث تھا۔مزمل انصاری نے بتایا کہ ان کے خاندان والوں نے عمران ارشد نامی اس شخص کے بارے میں ابتدا ہی سے پولیس کو اپنے شکوک و شبہات سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد اس سے تفتیش کی گئی تھی اور چھوڑ دیا گیا تھا۔اس وقت ڈی این اے میچنگ کا سلسلہ شروع نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم اس کو دوسری مرتبہ چند روز قبل گرفتار کرنے کے لیے پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کے دوران عمران نے تمام آٹھ بچیوں پر جنسی حملوں اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس افسر نے کہا کہ یہ شخص بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد انھیں قتل کر دیتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے مطابق وہ اس فعل میں تنہا شامل تھا اور اس کا کوئی ساتھی نہیں تھا۔پولیس کے مطابق ملزم کے ڈی این اے کے نمونے پنجاب فارنزک لیبارٹری میں بھیجے گئے تھے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ وہ مرکزی ملزم ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے ڈی این اے کا نمونہ زینب کے جسم سے حاصل کیے گئے قاتل کے ڈی این اے کے نمونوں سے مطابقت رکھتے تھے جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہی زینب سمیت ان آٹھ بچیوں پر جنسی حملوں اور قتل کی وارداتوں کا مرکزی ملزم ہے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ایک عہدیدار کے مطابق عمران کو اس کا ڈی این اے میچ ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد سے وہ زیرِ نگرانی تھا۔ گرفتاری کے بعد اس کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے جن کا موازنہ تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے ممکنہ قاتل کے ڈی این اے سے میچ کیا گیا۔24 گھنٹے کے اندر اس کے مثب نتائج سامنے آنے کے بعد اس امر کی تصدیق ہو گئی تھی کہ عمران ہی مطلوبہ اور مرکزی ملزم تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
اتوار, اکتوبر 18, 2026
تازہ خبریں:
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
- پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی

