ملتان : دنیا کے معروف ترین سرچ انجن گوگل نے ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کی 91ویں سالگرہ پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنا آج کا ڈوڈل ان سے منسوب کردیا۔پاکستانی صارفین کے لیے جاری کیے جانے والے اس ڈوڈل میں نور جہاں کو ان کے مخصوص روایتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ملکہ ترنم اور میڈم نور جہاں کے نام سے پہچانی جانے والی اس عظیم گلوکارہ کا اصل نام اللہ رکھی وسائی تھا۔21 ستمبر 1926 کو قصور میں پیدا ہونے والی اللہ رکھی وسائی پانچ سال کی عمر میں ہی اسٹیج پر گیت گا کر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں، موسیقی کی ابتدائی تعلیم انہوں نے اس دور کی مشہور گلوکارہ کجن بیگم سے حاصل کی، بعد ازاں وہ استاد بڑے غلام علی خان سے بھی باقاعدگی سے گانا گانا سیکھتی رہیں۔اپنے کریئر کی شروعات میں نور جہاں، آغا حشر کاشمیری کی بیگم گلوکارہ مختار بیگم سے بہت متاثر تھیں، نور جہاں کے ہنر کو دیکھتے ہوئے مختار بیگم نے انہیں اور ان کی بہنوں کو اپنے ڈرامہ نگار شوہر آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر میں بھی کام دلوایا۔نور جہاں بیک وقت گلوکارہ بھی تھیں اور صفِ اول کی اداکارہ بھی۔ ان کی تمام پنجابی فلمیں کلکتہ میں تیار کی گئی تھیں جبکہ 1938 میں وہ لاہور منتقل ہو گئیں۔ 1931 میں انہوں نے 11 خاموش فلموں میں بھی کام کیا۔انہوں نے اردو کے علاوہ ہندی، پنجابی اور سندھی زبان میں بھی گلوکاری کی اور 10 ہزار کے قریب گانے ریکارڈ کروائے۔جب نور جہاں نے فیض صاحب کی مشہور غزل ‘مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ’ گائی تو ہر طرف بس اس غزل کے ہی چرچے ہونے لگے۔ان کے زبان زد عام گانے ‘سانوں نہر والے پل تے بلا کے’، ‘آواز دے کہاں ہے’، ‘چاندنی راتیں’، اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے’، اور ‘اے وطن کے سجیلے جوانو!’ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی تازہ اور موجودہ دور سے ہم آہنگ محسوس ہوتے ہیں۔ملکہ ترنم نور جہاں کو 1965 میں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا اور کئی دیگر اعزازات بھی ان کے حصے میں آئے۔سریلی آواز اور خداداد صلاحیتوں کی مالک ملکہ ترنم دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر 23 دسمبر 2000 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں لیکن ان کے مشہور گانے کے بول کی طرح دنیا آج بھی ان کے گیت گارہی ہے۔
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

