جلال آباد: افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں سکیورٹی فورسز اور سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں سے لڑائی جاری ہے۔ حکام کہنا ہے کہ کم از کم تین حملہ آور آر ٹی اے کی عمارت میں داخل ہوئے جن میں سے دو خود کش حملہ آور تھے۔ دوسری جانب دولت اسلامیہ (داعش) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حملے میں اب تک ایک شہری کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے جبکہ وہاں سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ شہر دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کے قریب ہے تاہم اس علاقے میں طالبان بھی سرگرم ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ٹیلی وژن سٹیشن کے سربراہ سمیت کم از 12 ملازمین کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے تاہم دیگر لوگ اندر ہی محصور ہیں۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ 14 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)
پیر, اگست 10, 2026
تازہ خبریں:
- جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
- مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
- وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

