اسلام آباد : گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت ملنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چند صارفین کی جانب سے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ چند سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ اگر پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہوتا تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت ہرگز نہ ملتی۔ محمد حاشر کہتے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ ہم برطانوی دور کے حکمرانی اور انصاف کے پرانے نظام پر چل رہے ہیں۔ ہمیں ایسے منتخب عہدیداروں کی بجائے جو فیلڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کی ضرورت ہے۔ انھوں نے تو ایک گراف بنا کر یہ دکھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ کس کس صدر کے دورِ حکومت میں پاکستان کی معیشت میں کتنی بہتری آئی۔ ایک صارف تو صدارتی نظام کی حمایت میں سنہ 1942 میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیِ پاکستان محمد علی جناح سے منصوب ایک فرمان بھی شئیر کر دیا اور کہا کہ ہمیں پاکستان میں اسی کے مطابق لیڈر شپ اور نظام چاہیے۔ میاں شعیب نامی ایک صارف کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام پر انھیں اعتماد نہیں ہے۔ ’سیاستدانوں اور عدالتوں میں موجود ان کے ایجنٹس سے چھٹکارے کے لیے میں صدارتی نظام رائج کرنے کی تائید کرتا ہوں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
منگل, نومبر 3, 2026
تازہ خبریں:
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری

