اسلام آباد : گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت ملنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چند صارفین کی جانب سے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ چند سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ اگر پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہوتا تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت ہرگز نہ ملتی۔ محمد حاشر کہتے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ ہم برطانوی دور کے حکمرانی اور انصاف کے پرانے نظام پر چل رہے ہیں۔ ہمیں ایسے منتخب عہدیداروں کی بجائے جو فیلڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کی ضرورت ہے۔ انھوں نے تو ایک گراف بنا کر یہ دکھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ کس کس صدر کے دورِ حکومت میں پاکستان کی معیشت میں کتنی بہتری آئی۔ ایک صارف تو صدارتی نظام کی حمایت میں سنہ 1942 میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیِ پاکستان محمد علی جناح سے منصوب ایک فرمان بھی شئیر کر دیا اور کہا کہ ہمیں پاکستان میں اسی کے مطابق لیڈر شپ اور نظام چاہیے۔ میاں شعیب نامی ایک صارف کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام پر انھیں اعتماد نہیں ہے۔ ’سیاستدانوں اور عدالتوں میں موجود ان کے ایجنٹس سے چھٹکارے کے لیے میں صدارتی نظام رائج کرنے کی تائید کرتا ہوں۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
اتوار, ستمبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ

