مستحسن خیال سے پہلی ملاقات کب ہوئی؟ یہ تو معلوم نہیں۔ان سے جب بھی ملاقات ہو، لگتا ہے جنموں کا ساتھ ہے۔چند ماہ پہلے تشریف لائے ،حکم دیا کہ میری کتاب "صحیفہ دل” کا آرہی ہے۔آپ نے اس پر کچھ لکھنا ہے۔پہلے تو میں نے ان کو ٹالنے کی پوری کوشش کی،کیونکہ وہ ایک بڑے شاعر ہیں اور بڑے شاعر پر میں جب لکھوں گا اس میں ان کے فن کے بارے میں کچھ اضافہ نہ کر پاؤں گا ۔یہ میرا یقین بھی ہے اور گمان بھی ،ان کے فون آتے رہے ۔یاد دہانی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے رہے کہ بس اب آپ کی رائے کا انتظار ہے۔
میرا خیال ہے کہ مستحسن خیال غلط بیانی نہیں کر رہے تھے ۔وہ واقعی میری رائے کا انتظار کرتے رہے کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ میری رائے کے ساتھ ان کی کتاب شائع ہو ۔ویسے بھی” صحیفہ دل” ایک ایسا مجموعہ ہے جس کو انہوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ۔نعتوں اور ان کی اشعار کی تعداد کے حوالے سے بھی حیات نبی ص کے تناظر میں انہوں نے خصوصی طور پر 63 اشعار کہے”۔صحیفہ دل "میں اس کے علاوہ حمد باری تعالی اور انبیاء کرام کے حوالے سے علامتی منظومات شامل کی گئی ۔جو اردو کے شعری ادب میں بالکل نیا تجربہ ہے ۔اور یہ شعری تجربہ وہی کر سکتا ہے جو شاعری کے اندر خود باکمال صلاحیت رکھتا ہو اور مستحسن خیال ایسے ہی باکمال شاعر ہیں جو نہ صرف عروض کے ماہر ہیں بلکہ اپنے ارد گرد کے شاعروں کی غلطیوں کو بھی بڑے خوبصورت انداز سے درست کر کے ان کو بتاتے ہیں کہ یہ شعر یوں بھی کہا جا سکتا تھا ۔اس عمل میں نہ تو وہ کسی کی تذلیل کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی علمیت کا رعب جھاڑتے ہیں ۔
مجھے برادر م مستحسن خیال کے ساتھ بے شمار ادبی تقریبات اور مشاعروں میں جانے کا موقع ملا ہے ۔وہ ہر مشاعرے میں نہ صرف تازہ کلام سناتے ہیں بلکہ نئی تراکیب کے ذریعے اپنی شاعری پر خوب داد بھی سمیٹتے ہیں ۔فنی مہارت کے باوجود ان کے ہاں عجز ہے انکسار ہے اور محبت ہے ۔وہ بے وزن شاعری کرنے والوں کا مذاق نہیں اڑاتے ۔بلکہ بڑے ہی خوبصورت انداز میں ان کی شاعری کو وزن میں کر کے کہتے ہیں اگر یہ شعر یوں کہہ لیتے تو اچھا تھا ۔اگر ہم مستحسن خیال کے شعری سفر کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظیات، قافیوں کا استعمال ،مضامین کی تازگی اور مشکل بات کو ،آسان انداز میں شعر کا روپ دینا،انہی کا ہی خاصہ ہے ۔اس خوبی کے تحت جب وہ حمد و نعت ،غزل اور نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔تو ان کے ہاں شعری خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔
مستحسن خیال دبستان ملتان کے وہ شاعر ہیں جنہوں نے نعت کہنے کو بطور عبادت کے معنوں میں لیا ۔جس طرح ان کی شخصیت میں دھیما پن اور خلوص و محبت دکھائی دیتا ہے ۔یہی آنچ ان کی شاعری میں دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے جہاں شاعری میں نئے تجربات کیے، وہاں حمد و نعت میں بھی بے شمار نئے تجربات کیے۔خاص طور پر” صحیفہ دل” میں ان کی شعری مہارت پورے جوبن پر ہے ۔یوں مستحسن خیال کی "صحیفہ دل” کی سخن آرائی ان کو ایسے درجے پر فائز کرتی ہے۔جہاں سے ان کے ہم عصر دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔
صاِئمہ نورین بخاری ان کی شاعری کے بارے میں بہت خوبصورت انداز میں رائے دیتے ہوئے کہتی ہیں ۔
"عقیدت کی خوشبو میں مہکتا ہوا ” صحیفہ دل کا "خطہ ملتان کے نامور شاعر جناب مستحسن خیال کا مجموعہ کلام ہے۔حمدیہ اشعار ، ہدیہ نعت اور تحمید کا التزام ،گویا” صحیفہ دل کا” گل و گلزار سے مہکتا ہوا وہ سلسلہ ہے جو پڑھنے والے کو ایک معطر روحانی سفر سے فیض یاب کراتا ہوا،ناقدین فن کو بھی باور کراتا ہے کہ ان عقیدت و محبت سے لبریز اشعار میں تکلف نہیں ،آمد ہی آمد ہے اور مستند شاعر حضرات آمد اور آورد کے پیمانوں کو بخوبی جانتے ہیں کہ حمد باری تعالٰی،نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انبیائے کرام کے حوالے سے علامتی منظومات رقم کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ ۔۔۔۔۔مگر راستہ کی آسانی اس وقت ممکن ہوجاتی ہے جب خلوص اور لگن کے ہر ستارے سے آگہی کی روشنی کا سلسلہ چل نکلے ۔”
مستحسن خیال کہتےہیں۔۔۔۔
علم کا،عرفان کا اور آگہی کا سلسلہ
کالی کملی سے چلا ہے روشنی کا سلسلہ
۔……
نعت کا پہلا ہی مصرعہ تھا ابھی لکھا خیال
نور میں ڈھلتا گیا،پھر شاعری کا سلسلہ
۔…..
وہ مجھ میں جھانکتا رہتا ہے میرے اندر سے
مرے ضمیر کو نظروں سے وہ کھنگالتا ہے
۔…..
کبھی کبھی تو دھڑکتا ہے اس طرح سے دل
کہ جیسے مجھ میں وہ آکر دھمال ڈالتا ہے
۔……
زمیں پہ تربتیں آرام گاہ کہلائیں
یہ کارواں ہیں جو کار رواں کی حد میں ہیں
۔…..
اگر وہ چاہے ،گنہگار سارے مٹ جائیں
گناہ گار اسی مہربان کی حد میں ہیں
۔…….
ہے قید میں پر لائق دیدار وہی ہے
بے بس ہے مگر رونق بازار وہی ہے
۔۔۔۔۔۔
یہ محبت کے جو بازار ہیں صدقے تیرے
عشق کے سارے خریدار ہیں صدقے تیرے
راستہ جو بھی مدینے کی طرف جاتا ہے
سب اسی راہ کے راہوار ہیں صدقے تیرے
اپنے بندے کو بنایا ہے خدا نے محبوب
سب محبت کے طلبگار ہیں صدقے تیرے
تیرے صدقے سے تعلق ہے خدا سے بنتا
سب محبت کے پرستار ہیں صدقے تیرے
یہ تیرے نام پہ مر سکتے ہیں جی سکتے ہیں
سب طرف دار ہی جی دار ہیں صدقے تیرے
صحیفہ دل کا : مستحسن خیال کے مستحسن خیالا ت کا مجموعہ ۔۔شاکر حسین شاکر کا کتاب کالم
ایڈیٹر34 Views

