” کراچی میں پندرہ سال کے دوران باون ڈاکٹر قتل کیے گئے۔
مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا لیکن بچ گیا۔
مجبوراً ترک وطن کرنا پڑا۔”
ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔
وہ ہیوسٹن میں کلینک کرتے ہیں۔
” آپ امریکہ ہی کیوں آئے؟
کسی قریبی مسلمان ملک چلے جاتے۔“
میں نے خواہ مخواہ کی بات کی۔
انھوں نے ٹھنڈا سانس لے کر کہا،
” میرے والد نے نصیحت کی تھی،
بیٹے! جب پناہ درکار ہو تو
عیسائی ملک چلے جانا،
اپنے قبیلے والوں کے پاس مت جانا۔
مکہ والوں نے مکہ والوں کو پناہ نہیں دی تھی،
انھیں نجاشی کے پاس جانا پڑا تھا۔“
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا

