سپریم کورٹ کےکل کے فیصلے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسئ، جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم افغان نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مبارک ثانی کیس میں دیا گیا اُن کا پہلا فیصلہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اسلامی تھا جس کے باعث کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ علما نے بھی اپنے طرف سے درست احتجاج کیا۔ مگر اصولی طور پر ایسا فیصلہ دینے والے اور خود کو فلاسفر اور عالم سمجھنے والے قاضی کو کیا اب قوم سے معافی نہیں مانگنی چاہئیے ؟ کیا محض اپنا گھناؤنا فیصلہ واپس لینا کافی ہے؟ اور کیا اپنی غلطی کو چند علما کے سامنے چیمبر میں بیٹھ کر تسلیم کرنا کافی ہے ؟ اگر آج کا یہ فیصلہ چیمبر میں بیٹھ کر علما سے مشاورت کر کے دیا گیا ہے تو وہ پہلے والا فیصلہ کون سے نام نہاد اسلام دشمن "عالم” کیساتھ چیمبر میں بیٹھ کر لکھا گیا تھا؟ سپریم کورٹ کے تین ججز فوری وضاحت دیں کہ کھلی عدالت میں لگے کیس کے دوران فریقین سے چیمبر میں یہ غیر اعلانیہ ملاقات کیوں کی گئی؟
باقی یہ فیصلہ خوش آئیند ہے کہ جس کی وجہ سے تین ججوں کی عدالتی عقل و دانش کا پول بھی کھل گیا ہے۔ مخصوص نسشتوں والے کیس میں بھی انہی تین ججوں نے کچھ ایسے ہی عقل و دانش کے موتی بکھیرے تھے۔
دنیا بھر کی عدالتوں کا اصول ہے کہ ججز حضرات کھلی عدالت میں لگے کیسوں کو کسی ایک فریق سے چیمبروں میں ڈسکس نہیں کرتے۔ اتنا قصور علما کا نہیں( جو اپنی سیاست چمکانے ججوں سے غیر آئینی و ماورا قانون ملاقاتیں کر لیتے ہیں) مگر اُن نالائق قاضیوں کا ہے کہ جو محض ضمانت کے کیس میں ایک ملزم کیخلاف پورا کیس اُڑا دیتے ہیں، غیر ضروری زبان درازی کرتے ہیں، پھر نظر ثانی پر اپنا گھناؤنا فیصلہ برقرار کھتے ہیں، پھر پریس ریلیزوں کے ذریعے اُس گھناؤنے فیصلے کا دفاع کرتے ہیں اور سب سے افسوسناک بات یہ کہ اپنی غلطی مانتے ہوئے استعفی دیکر گھر جانے کی بجائے ماورا ئےآئین نظر ثانی پر دوبارہ نظر ثانی لگا لیتے ہیں، لوگوں کی زندگی موت کے فیصلے کرنے والا قاضی یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ غلطی انسان سے ہوتی ہے، کیونکہ جو قاضی پہلے اپنی غلطی نہ مانے، پھر نظر ثانی میں بھی ڈٹ جائے اور پھر پریس ریلیزوں میں بھی اپنے غلطی کا دفاع کرے تو پھر ڈنڈے کی نوک پر ماورائے عدالت مانی گئی غلطی بزدلی اور بے شرمی ہوتی ہے احساس ندامت نہیں۔ خبروں کے مطابق کل کمرہ عدالت میں کچھ لوگوں اور وکیلوں نے بھی جو چیف جسٹس کیساتھ بدتمیزی کی اور جسطرح تینوں جج بے بس نظر آئے یہ سپریم کورٹ کی سنگین توہین تھی جس کی ذمے داری خود اِن تین ججوں پر بھی آتی ہے، سیاسی جماعتوں، سیاستدانوں، بیوروکریٹوں اور میڈیا پر کھلی عدالت میں شیر کی مانند دھاڑنے والا آج چیمبر کی بھیگی بلی بنا
پیر, ستمبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون

