مارکسی دانشور ڈاکٹر ایچ ایم تقی کہتے ہیں” لکھنے والوں کو عوامی مسائل کو موضوع بنانا چاہئے ،حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے “۔ڈاکٹر تقی کا مشورہ ناصائب نہیں ،مگر لفظ”سیاست“ بھی تو سائیس سے نکلا ہے ، سکھانے والا،سدھانے والا ۔سیاستدان اپنے فرائض سے دست کش ہوجائیں تو عوام مسائل کے جنگل بیابان میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں اور حکمران راعی ہوتے ہیں اگر رعایا کا دھیان نہ رکھیں تو وہ بھوک ،پیاس سے مرجائیں ،اور المیہ یہ ہے کہ سیاستدان ہوں یا حکمران دونوں ہوس زر کا شکار ہیں ،عوام کے مسائل کو اپنا درد سر نہیں گردانتے ،اس لئے اقتدار والوں کو سارا وقت اقتدار بچانے میں اور سیاستدانوں کو حکومت گرانے میں لگ جاتا ہے ۔عوام بے سروسامان رہ جاتے ہیں ۔کسان ہویا عام آدمی وہ دو وقت کی روٹی میں الجھا رہ جاتاہے ،ان کے حقوق کی پاسبانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور وہ جن کے نام کے ساتھ” پاسبان “منسوب ہے ان کا دائرہ کار جغرافیائی سرحدوں کی نگہ بانی کے ساتھ حکمرانوں اور سیاستدانوں کا ریکارڈ جمع کرنا رہ گیا ہے۔
اب لکھنے والوں کے پاس ایک ہی موضوع رہ جاتا ہے کہ قلم کے ہتھیار سے طاقتور کی قوت سے لوگوں کو آگاہ رکھیں ۔مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ لکھنے والے بھی اپنے اپنے مفادات کے کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں ،لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کی بجائے اپنی مراعات کی ٹوہ میں رہتے ہیں۔
گھمسان کے ان مسائل میں پاکستان کی نوجوان نسل گم ہوگئی ہے ،اِس نے اپنی تمام توانائیاں تحریک انصاف کی کامیابی پرلٹادیں ،اسے امید کا مرکز تصور کرتے ہوئے اپنے سارے خواب عمران خان کی جھولی میں ڈال دیئے ۔عمران خان نے ان نوجوانوں کے ووٹر بننے تک کے سفر میں ان کے ذریعے شوکت خانم ہسپتال کی صورت میں اپنی ماں کے سپنے کی تعبیر حاصل کی ۔انہیں نگرنگر بھیک منگوائی ،اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ان نوجوانوں کو مفت اعلیٰ تعلیم ،پرکشش ملازمتوں اور تابناک مستقبل ،خوشگوار سہولتوں سے مزین گھروں کا لالچ دیکر سیاست کے میدان میں جھونکا،اس کے ساتھ ہی ایک اور المناک روایت کی بنیاد یوں رکھی کہ ان ہیرے ،جواہرات جیسے نوجوانوں کے منہ میں گندی زبان رکھ دی ۔وہ توانائیاں جو انہوں نے نظام کی تبدیلی اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے خرچ کرنا تھیں انہیں یاوہ گوئی اور کشت وخون کے راستے پر استعمال کرنے کے لئے مجبور کیا۔ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کی بجائے اندرونی خلفشار کی بھینٹ چڑھا دیا ۔وہ نوجوان جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ بہت پرامید تھے ان تازہ دم ،حریت کے جذبوں سے سرشار نوجوانوں کی صلاحیتوں کو”کشت ویراں “کی نمو کے لئے استعمال کرنے کی بجائے خوں بہانے کی راہ پر ڈالدیا۔انہیں کسی فکری نظریئے کے ساتھ جوڑنے کی بجائے تلخیوں کے ساتھ جینے کا خوگر بنا دیا ،ان کے ذریعے ایسے سیاسی کلچر کو عام کیا جس میں شرافت کا فقدان دن بدن فروتر ہوتا چلاگیا ۔
شہید ذوالفقار علی بھٹواور شہید بی بی بینظیر بھٹو نے جس طرح نوجوانوں کو نظریاتی بنا کر انہیں سیاسی جدوجہد کی ایسی راہ پر چلایا کہ وہ قتل گاہوں سے علم چننے کے لئے جانیں تک قربان کر دینے پر آمادہ و تیار رہتے تھے ۔اُسی نسل کی اولاد پی پی پی کی بعد کی قیادت سے مایوس ہو کر پی ٹی آئی کا ہراول دستہ بنی،مگر کسے خبر تھی کہ اس ساری نسل کے تفاخر کو مٹی میں ملادیا جائے گا ،اس کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے اور تشخص کو مسخ کر دیا جائے گا ،اس کو ضمیر فروشی کی ایسی داستان بنادیا جائے گا کہ مسلم لیگ کی کہانی بھی اس کے آگے ہیچ ٹھہرے گی ،جس نے ہر آمریت میں ایک نیا جنم لیا اور ہر جنم میں لوٹ مار اور سیاسی بے راہ روی کی نئی تاریخ رقم کی اور اس کی بدقماشی میں آخر کو جے یوآئی ایف بھی اس کی حصہ دار بن گئی جو شکلِ حاضرکے پاکستان کے قیام کی بھی حامی نہیں تھی ۔
بابا جی ملکی صورت حال پر کڑھتے تھے تو بے ساختہ فرمایا کرتے تھے ” واہ جو قسمت پاکستان دی“۔
آج جب ڈاکٹر ایچ ایم تقی لکھنے والوں کی ذمہ داری اور ان کے موضوتِ سخن کی بات کرتے ہیں تو ایک پل رک کر پوری سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ کہیں ہم لکھنے والے اپنے عہد کی ترجمانی میں تسامح کا شکار تو نہیں ،وہ جو مفاد کے کھونٹوں سے بندھے ہیں ان سے سَوا جو ہیں ان کی ترجیحات کی سمت بھی کہیں نادرست تو نہیں ،انہیں بھی اپنا قبلہ چننے میں کسی دشواری کا سامنا تو نہیں ،کہیں یہ بھی بے جا کی مصلحتوں میں تو نہیں گھرے ہوئے ،کہ یہ دور تو دروغِ مصلحت آمیز ہی کا ہے ،یہ سچائی بن کر جیتے ہیں یا ملمعہ سازی ہی کو حرزِ جاں بنا کر حرف و صوت کے حق کی ادئیگی کی ردا اوڑھے
ہوئے ہیں۔۔۔!a
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

