کراچی:پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے پی ٹی آئی پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر ردعمل میں کہا ہےکہ حکومت نے ہمیں اس فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا، اب دیکھنا ہےکہ عدالت اس پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔
ایک بیان میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہم نے بھی یہ بات سنی ہے، ہمیں سیاست کرنی چاہیے، ان چیزوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے، جو ملک کے حالات چل رہے ہیں سب کو مل کر بیٹھنا چاہیے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ میں پیپلزپارٹی میں ہوں اور پیپلزپارٹی کی پالیسی کے ساتھ کھڑا ہوں، پیپلزپارٹی کی رائے میری رائے ہے، میری ذاتی رائے کوئی نہیں، پیپلزپارٹی کی پالیسی آجائے تو میں پھر ہی بات کر سکوں گا، پارٹی کی طرف سے ابھی کوئی ڈائریکشن نہیں ہے۔
وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جو ہوا وہ پی ٹی آئی قیادت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے، انتہاپسندی اور فاشزم پاکستانی سیاست کے ساتھ نہیں چل سکتے۔سابق چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ سیاسی جماعت پر پابندی جمہوری اصول کے خلاف ہے، اس اقدام سے افراتفری بڑھےگی اور معیشت پر منفی اثر پڑےگا، حکومت اندرونی دہشت گردی روکنے پر توجہ دے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
تازہ خبریں:
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

