اسلام آباد : پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان نے تسلیم کی ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق کر رہے ہیں اور افغان حکام سے مشاورت جاری ہے۔ ’یہ دہشتگرد حملہ یاددہانی ہے کہ افغانستان اور خطے کے امن کو دہشتگردی سے خطرات کا سامنا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گرد گروپ داعش کی طرف سے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی رپورٹس کے حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ داعش کے خراسان چیپٹر نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر دہشت گرد حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادانہ طور پر اور افغان حکام کے ساتھ مشاورت سے ہم رپورٹس کے حقائق کی تصدیق کر رہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گرد حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی افغانستان اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، لہٰذا اس کو شکست دینے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر اجتماعی طاقت اور پختہ عزم کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزائم میں پیش پیش رہا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز (3 دسمبر) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی کے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا جہاں ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔بعدازاں دہشت گروپ داعش کے خراسان چیپٹر نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ وہ پاکستانی نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر عربی زبان میں ایک بیان جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا کہ دو مسلح حملہ آوروں نے پاکستانی سفیر اور ان کے محافظوں پر ہتھیاروں اور اسنائپرز سے حملہ کیا جہاں وہ سفارت خانے کے صحن میں موجود تھے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر داعش خراسان نے حملہ کیا : دفتر خارجہ کی تصدیق
ایڈیٹر2 Views

