ایک زمانہ تھا جسے پنجابی میں ”ویلا“ کہتے ہیں، زندگی بہت آہستہ خرام تھی، 1968 اور 69ء کے زمانے میں تانگے میں سوار ہو کر ادبی…
Browsing: ڈاکٹر صلاح الدین حیدر
اقوام متحدہ کے ایک سادہ سے سروے کے مطابق پسماندہ قوموں کے دس لاکھ بچے سالانہ محض بھوک سے جانکنی کے بعد موت کے گھاٹ اُترتے ہیں۔ دوسری سمت اسلحہ کی دوڑ، جنگ پرستی کے نئے ہتھکنڈے اور اس سے ہٹ کر انسانیت کے متعلق کھوکھلی اور دفتری لفاظی ایک شاعر کے تجربے کو فریب نہیں دے سکتی۔ اس کے اس بڑھتے پھیلتے آشوب سے ظہور نظر جو کبھی سچائی کی تلخی کا زہر پینے سے نہیں ہچکچایا تھا، بھلا کس طرح غافل رہ سکتا تھا؟
ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی
جدوں جہاز تو لتھا تے شیروانی میرے ڈھڈ تے لش لش کردی پئی سی، میں ایمرجنسی لئی بریف کیس وچ دھوتی وی رکھی ہوئی سی۔ خیر میرے ایتھاں اپڑن دا ایہ مقصد وی سی جے قومی ترقی وچ دیگاں دی اہمیت تے چانن پاواں۔۔۔۔
مینوں دیگاں نال نکے ہوندیاں تو بڑا پریم سی، دیگاں گلی دی نکر تے پیاں ہوندیاں سی تے میں اُنہاں نوں ہلا ہلا کے سائنسی تجربے کردا رہندا سی۔
"مقدس آمریت” کے دور میں فلم، موسیقی، رقص اور دیگر فنونِ لطیفہ سے وابستہ تمام لوگوں کی کڑی چھان بین اور بازپرس کی جاتی تھی۔ اور ہر وہ شخص جو میری طرح ریاضی میں کمزور تھا، اس ’’ مقدس حکم ‘‘ کا پیروکار بن گیا۔ موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کو مختلف طریقوں اور ذرائع سے مبتذل بنا دیا گیا۔
کہانی کی تاریخ تو بہت قدیم ہے، اور تاریخ کے سفر میں کئی قصوں، کہانیوں نے زندگی کی متصادم اقدار کی تصویر کشی کی ہے اور…
بہت گہری سطح پرتنازعات کہ تہہ میں متنوع طبقاتی مفادات کارفرماہوتے ہیں لیکن محکوم معاشروں اورملکوں میں ان کے اظہار کے جو پیمانے ہیں ان میں…
ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی چند سالوں کے دوران نیا مکتبہ ملتان کے وسیلے سے فکر و نظر کی نئی تحریکوں سے مانوس ہونے کا موقع…
نصرت الاسلام سکول کا زمانہ یعنی 1951ء تا 1962ء۔ عمر ابھی چار سال نہیں تھی لہٰذا کاغذات میں داخلے کے لیے عمر بڑھا دی گئی۔ اس…
وہ 8 ماہ تک ہر ہفتے ہمارا ہاتھ پکڑ کر چلی۔۔۔ اور اب جب سب کچھ ختم ہونے کو تھا تو یکایک وہ ہاتھ چھڑا کر…
