نصرت الاسلام سکول کا زمانہ یعنی 1951ء تا 1962ء۔ عمر ابھی چار سال نہیں تھی لہٰذا کاغذات میں داخلے کے لیے عمر بڑھا دی گئی۔ اس طرح آگے بڑھنے سے آدمی بڑا نہیں ہو جاتا۔ اس زمانے میں آمد و رفت کے لیے صرف تانگوں اور جی ٹی ایس کے زیرِ اہتمام چند دیوار خستگی سے مماثل بسوں کا رواج تھا۔ اور کوئی نو عمر طلبا تدریسی ضابطوں میں دقت گزارنے کی اذیت سے باغی ہو کر مدرسے سے فرار ہو جاتے۔
تو ایسا ہی ایک دوست اور لال کُرتی کا رہائشی پتو شاہ بھی تھا۔ مَیں نے عرصہ پہلے اُس کا ایک خاکہ تحریر کیا تھا۔ مَیں تدریس سے فرار ہونے والوں کی جرأت مندی پر ہمیشہ رشک کرتا تھا۔ لیکن صدر بازار ملتان کینٹ کے شاہین بک سٹال کے رسائل اور ایک آنہ لائبریریوں سے امیر حمزہ کی داستان اور دیگر کہانیوں سے ایک خیالی دنیا بنا لی تھی۔ سو جب آدھی چُھٹی کے لیے سکول کی گھنٹی بجتی تو ”مالٹا“ کے دال سویّوں کے سٹال تک رسائی ایک طرح سے رہائی کا پیغام لے آتی۔ مالٹا کا سانولا چہرہ، گول مٹول اور نارنجی رنگ کی قمیض کے ساتھ اپنے گلے میں ایپرن باندھ کر رکھتا تھا۔ اور بچوں کو ٹافیاں، دال سویّاں کے پیکٹ تھماتے ہوئے وہ تیز لہجے میں بات کرتا، لیکن ایک بے ساختہ شفیقانہ اسلوب سے ان کی نفسیات کو بھی پیشِ نظر رکھا۔
یہ روایت تھی کہ آدھی چھٹی یعنی ریسیس سے کوئی آدھا گھنٹہ پہلے مالٹا کی بیوی سفید چادر اوڑھے نظریں جھکائے اور ایک آہنگ سے گٹھڑی میں بچوں کے کھانے کی چیزیں سنبھالتی سٹال تک پہنچ جاتی اور ریسیس سے ذرا پہلے منظر سے غائب ہو جاتی اور جب دوبارہ تدریسی کام سے ذرا پہلے مالٹا کو فراغت نصیب ہوتی تو یوں لگتا اس نے کینچلی اُتار دی ہے اور بچے مالٹا سے سے سانپ کے مرنے کی داستان سنانے کا تقاضا کرنے لگتے اور مالٹا ایک داستان گو کا روپ دھار لیتا۔ اس کی آنکھوں میں پُراسرار چمک پیدا ہوتی اور پھر ایک گمبھیر لہجے سے بچوں کو مخاطب کر کے بتاتا:
”سانپ نے مجھے جب بھی کاٹا ہے تو اس کے زہر کا اثر مجھ پر نہیں ہوا، بلکہ سانپ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔“
”وہ کیسے؟“ بچے دم بخود ہو کر سوال کرتے۔
اور مالٹا اپنی داستانِ حیات کے ورق الٹنے لگتا۔ ”اس طرح ہے کہ جب مَیں آپ کی عمر کا تھا تو مجھے سانس کی تکلیف سے اذیت رہتی تھی، تو ایک دن اتفاق سے ایک سپیرے سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ سنکھیا کھانے والے پر سانپ کے زہر کا اثر نہیں ہوتا اور سانس کی تکلیف کا علاج بھی ہو جاتا ہے۔ سو مَیں نے تھوڑی تھوڑی مقدار میں سنکھیا کھانا شروع کیا اور پھر خوراک کو بڑھاتا گیا۔ اور پھر ایسا وقت آیا کہ سانپ کا خوف دور ہو گیا۔ اور مَیں آپ کو کیا بتاؤں سانپ میری آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر موت سے ہمکنار ہو جاتا“۔ اب یاد نہیں کہ سانپوں کی ہلاکت کا قصہ کتنی بار مالٹا سے سُنا تھا۔
دسویں جماعت تک آتے ہوئے مَیں نے اُس کے سٹال پر سکول کے اخباروں کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور روزنامہ ”امروز“ میں عنقا یعنی احمد ندیم قاسمی صاحب کا کالم ”حرف و حکایت“ معاصر زندگی کے موسموں کی جانب متوجہ کرنے کا باعث ہوا۔ مَیں نے 1966ء میں مالٹا کو آخری بار کینٹ سے روانہ ہونے والی ڈبل ڈیکر بس کی پہلی منزل کے فرش پر بے سُدھ پڑا دیکھا، وہ بہت دقت سے سانس لے رہا تھا اور اس نے مجھے حیرت اور بے بسی سے دیکھا۔ چڑیا اُسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اور سانپوں کے تڑپ تڑپ کر مرنے کی کہانی اُس کی آنکھوں میں دم توڑ رہی تھی۔
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

