خواہش بغیر کوشش کے یونہی ہے جیسے جسم بغیر روح کے جسے سپردخاک کرنے میں بجا طور پر جلدی کی جاتی ہے ۔خواہشوں پر انگریزی کا اک محاورہ ’’حرف آخر‘‘ سمجھیں جس کا فری سٹائل ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ’’اگر خواہشیں گھوڑوں کا روپ دھار سکتیں تو ہر شخص ہی شہسوار ہوتا ‘‘۔باقی رہیں دعائیں تو میں نے کچھ عرصہ پہلے اسی کالم میں عرض کیا تھا کہ ’’دعا قضا کو بھی ٹال سکتی ہے ‘‘اور 7جولائی 2020ءکو یہ لکھا تھا ’’بیش قیمت اور نازک مصنوعات کی پیکنگ پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ‘‘…..”FRAGILE, HANDLE WITH CARE”میرا بس چلے تو ہر زندہ شخص کے ماتھے پر لکھ دوں۔”LIFE IS FRAGILE, HANDLE WITH PRAYER”مطلب یہ کہ دعا میرے ایمان کا حصہ ہے۔مدتیں بیت گئیں میں سونے سے پہلے دعا ضرور کرتا ہوں۔والدین کیلئے ہی نہیں، تمام بچھڑ چکے دوستوں کیلئے بھی مغفرت کی دعا کے بعد اہلخانہ ، دوستوں اور جانے کس کس کیلئے سکھ سکون آسودگی کی دعائیں اور جیسے جیسے دوست بچھڑتے جاتے ہیں، میری دعائوں کا دورانیہ طویل تر ہوتا جا رہا ہے ۔چند روز قبل ہی میں کسی قریبی سے کہہ رہا تھا کہ اگر چند سال مزید مہلت مل گئی تو ان دعاؤں کا دورانیہ وسط شب تک پھیل جائے گا کیونکہ مرحومین کی لسٹ لمبی ہوتی جا رہی ہے ۔آخری دو نام مولوی سعید اظہر اور ڈاکٹر مغیث الدین کے ہیں ۔میں تمہیں بھول جاؤں اگرمرا داہنا ہاتھ اپنا ہنر بھول جائے’’مکرر ارشاد‘‘کی فرمائش کے بغیر دوبارہ عرض ہے کہ دعا میرے ایمان کا حصہ ہے لیکن جیسے ’’خواہش ‘‘ کی تکمیل کیلئے بھی کوشش، محنت اور ’’سعی‘‘ بہت ضروری ہے اسی طرح دعا کیلئے بھی ’’میرٹ‘‘ درکار ہے اور میرٹ کیا ہے ؟ شعب ابی طالب کی جان لیوا صعوبتوں سے لیکر طائف کے پتھروں تک، ہجرت کے دکھ سے غزوہ بدر میں بہے پاک لہو تک، احد کے شہیدوں اور زخموں سے لیکر غزوہ خندق کے معرکہ تک طویل ترین سلسلہ ہے’’میرٹ‘‘ کا جسے بہت سے لوگ بہت معصومیت اور آسانی کے ساتھ بھول جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ حیران ہو کر یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔
جب سے ہوش سنبھالا اپنے پارساؤں کو رقت آمیز انداز میں گڑگڑاتے سنا کہ کشمیر سے فلسطین تک خیر ملے لیکن نتیجہ ؟ ایک بار اک عجیب سا حساب لگایا بلکہ ’’میرے مطابق‘‘والی اپنی ٹیم سے لگوایا۔ ’’حساب ‘‘کی سمری یہ سمجھیں کہ کرہ ارض پر مسلمانوں کی کل تعداد کا تخمینہ کیا ہے ؟ان میں سے 1/4بھی اگر پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں تو ایک دن میں نمازوں اور دعاؤں کی تعداد کا تخمینہ ؟ایک دن میں کی گئی دعاؤں کو سال کے 365دنوں سے ضرب دیں اور پھر ان سب کے ٹوٹل کو صرف ایک سو سال سے ضرب دے کر اس کے ٹوٹل پر غوروفکر کریں۔ یہ ’’ٹوٹل‘‘ دیکھ کر اول تو کمپیوٹر ہی پھٹ جائے گا یا جواب دے جائے گا لیکن اگر یہ کمپیوٹر کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ نکلا تو حساب لگانے والے کا اپنا دماغ ضرور پھٹ جائے گا یا جواب دے جائے گا۔اس ایکسر سائز سے اور کچھ ملے نہ ملے، میرٹ کا مطلب ضرور سمجھ آجائے گا۔ایک بار اک بہت ہی نامور حضرت صاحب سے میں نے پوچھا …’’بندہ پرور ! مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں کسی غیر مسلم بلکہ ملحد کی جائیداد پر قبضہ کرلوں۔کیس عدالت میں چلا جائے۔جج بھی اتفاق سے دیانتدار ہو۔مظلوم روتا پھر رہا ہو، میں جائے نماز بچھائے اپنےحق میں فیصلہ کیلئے دعائیں مانگتا رہوں تو فیصلہ کس کے حق میں آئے گا؟جواب ندارد ،وہ جواب ہے، پالنے والا، وہ جو رحمٰن ہے اور رحیم بھی، اس کا ایک نام ’’المقسط‘‘ بھی ہے یعنی وہ جس کا ہر کام انصاف اور توازن کا آئینہ دار ہے ۔وہ اگر ’’العفُو‘‘ یعنی معاف کرنے والا ہے تو کیسے بھول سکتے ہیں کہ وہ ’’المنتقم‘‘ یعنی غلط کاروں کو سزا دینے والا بھی تو ہے اور ’’معافی‘‘ کیسی کہ معافی کا بھی ایک انداز، اسلوب اور شرط ہے کہ جو کیا، دوبارہ کبھی نہ کروں گا۔غلط کاریاں بھی جاری رکھنا، معافیاں بھی مانگنا اور دعائوں کی قبولیت کا منتظر بھی رہنا؟ ہم گندم اگائے بغیر دو نہیں ان گنت ’’چپڑی‘‘ ہوئی مانگ رہے ہیں ۔وہ ’’التواب‘‘ بے شک وشبہ توبہ قبول کرنے والا ہے لیکن توبہ شکنی پر ’’الخبیر‘‘ یعنی باخبر اور آگاہ بھی تو ہے ۔وہ ’’العدل‘‘ یعنی مکمل انصاف کرنے والا ہے اور ’’الحکم‘‘ بھی جو انصاف کرتا اور حقدار کو اس کا حق دلاتا ہے ۔اور وہ جو ’’البصیر‘‘ہے (THE ALL SEEING) جو ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے تو کیا ہمارے ’’اصل‘‘ ہمارے ’’اندر‘‘ ہماری ’’حقیقت‘‘ سے واقف نہیں ؟ اور جو ’’السمیع‘‘ یعنی ہر ایک کی سنتا ہے (THE ALL HEARING) تو ’’المذل‘‘ بھی اسی کے پاک ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی ذلت دینے والا مطلب وہ جو متکبر اور نافرمانوں کو ذلیل وخوار کر دیتا ہے اور جو ’’میرٹ‘‘ کو سمجھتے ہیں ان کو ’’المعز‘‘(THE HONORER)یعنی عزت، شوکت اور مقبولیت عطا کرنے والا ۔سمری اور باٹم لائن پھر وہی کہ جیسے خواہش کی تکمیل کیلئے بھرپور کوشش کی شرط ہے اسی طرح دعاؤں کی قبولیت کیلئے بھی میرٹ بہت ضروری ہے ورنہ ….صدیوں سے جاری صدیوں تک جاری رہے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
تازہ خبریں:
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

