Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, ستمبر 24, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
  • مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
  • جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
  • امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
  • دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » حامد میرکا کالم:یہ کمپنی کیسے چلے گی؟
حامد میر

حامد میرکا کالم:یہ کمپنی کیسے چلے گی؟

ایڈیٹرمارچ 1, 20210 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سینیٹ آف پاکستان آج سے نہیں بلکہ مدتوں سے بدنام ہے۔ سالہا سال سے یہ تاثر موجود ہے کہ سینیٹ کا رُکن بننے کیلئے کچھ لوگ اپنی دولت کا استعمال کرتے ہیں اور اراکینِ اسمبلی کے ووٹ خرید کر پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے رکن بن جاتے ہیں لیکن کیا پاکستان میں صرف اراکینِ اسمبلی ہی اپنا ضمیر بیچتے ہیں؟ احتساب عدالت کے ایک جج ارشد ملک کو اُن کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ صرف ایک وڈیو فلم اُن کی ہی نہیں بلکہ اُن کے ادارے کی بدنامی کا بھی باعث بنی۔
اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ کئی ججوں نے اپنے وقت کے حکمرانوں کی مرضی کے فیصلے کئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اہم عہدے حاصل کئے۔ یہ کہانی نظریۂ ضرورت کے بانی جسٹس محمد منیر سے شروع ہوتی ہے جو جنرل ایوب خان کے وزیر قانون بنے اور پاکستان کی عدلیہ کے کردار پر ہمیشہ کے لئے ایک داغ لگا گئے۔
اس کہانی میں ججوں کے علاوہ کچھ صحافیوں کے نام بھی آتے ہیں جو صحافت کو سیڑھی بنا کر اہم سرکاری عہدے حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اپنے ’’باس‘‘ کی بےجا خوشامد کرکے ایک ایسا لفافہ بن جاتے ہیں جس میں تمام عمر ضمیر فروشی کے الزامات جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اسی ضمیر فروشی کے خلاف وزیراعظم عمران خان نے آواز بلند کی اور سینیٹ کا الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے کرانے کی بجائے اوپن بیلٹ کی تجویز پیش کی۔ وزیراعظم صاحب نے بات تو کر دی لیکن اس سلسلے میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کرنے پر توجہ نہیں دی۔
اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا لیکن دوسری طرف اپوزیشن کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔ حکومت نے پارلیمنٹ کی ذمہ داری عدلیہ کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی۔
ایک طرف آئین کی دفعہ 186کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا اور پوچھا کہ سینیٹ کا الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے کرایا جائے یا اوپن بیلٹ سے؟ دوسری طرف عدالتی فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی ایک صدارتی آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا۔ اس ہنگامے میں سینیٹ کا الیکشن سر پر آن پہنچا تو وزیراعظم نے الزام لگا دیا کہ بلوچستان میں سینیٹ کی رکنیت کا ریٹ 70کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اس دوران تحریک انصاف نے سینیٹ کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔ پنجاب کے سوا باقی تینوں صوبوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں پر پارٹی کے اندر سے اعتراضات سامنے آئے۔ سب سے زیادہ اعتراض عبدالقادر صاحب پر کیا گیا جنہیں بلوچستان سے تحریک انصاف کا ٹکٹ ملا تھا۔ تحریک انصاف والوں نے خود الزام لگا دیا کہ عبدالقادر کی واحد قابلیت اُن کی دولت ہے۔
اعتراضات اتنے شدید تھے کہ عمران خان نے فوراً ہی یہ ٹکٹ عبدالقادر سے واپس لے لیا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں عبدالقادر نے کہا کہ عمران خان میرے لیڈر ہیں، اُن کا حکم سر آنکھوں پر۔ اگلے ہی دن وہ آزاد حیثیت میں امیدوار بن گئے۔ الیکشن سے چار دن قبل بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کو اسلام آباد سے کہا گیا کہ آپ نے عبدالقادر کو ووٹ ڈالنا ہے۔
اگر ووٹ عبدالقادر کو ہی دینے تھے تو پھر اُن سے تحریک انصاف کا ٹکٹ کیوں واپس لیا گیا؟ یہی صورتحال سندھ میں تھی جہاں تحریک انصاف نے سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا اور ان صاحب پر تحریک انصاف کے ایک رہنما لیاقت جتوئی نے الزام لگا دیا کہ ابڑو نے یہ ٹکٹ 35کروڑ میں خریدا۔ خیبر پختونخوا میں بھی تحریک انصاف کے کچھ امیدواروں پر حکمران جماعت کے اندر سے ایسے ہی الزامات لگائے گئے۔
یہاں پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اتحاد کر لیا۔ پنجاب میں تحریکِ انصاف نے نسبتاً بہتر امیدواروں کو ٹکٹ دیےاس لئے ٹکٹوں پر اعتراض نہ ہوا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ناراض ارکانِ پنجاب اسمبلی نے میڈیا میں بزدار کو اللہ کا عذاب قرار دینا شروع کر دیا۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنی نشستوں کی تعداد سے زیادہ امیدوار کھڑے کر دیے۔ مسلم لیگ (ق) نے بھی کامل علی آغا کو اپنا امیدوار بنا رکھا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کے لئے کامل علی آغا کو سینیٹر بنوانا زیادہ مشکل نہ تھا کیونکہ تحریک انصاف کے کئی ناراض ارکان چوہدری پرویز الٰہی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے تیار تھے۔
شاید یہی وجہ تھی کہ تحریک انصاف نے کامل علی آغا کو دونوں جماعتوں کا مشترکہ امیدوار بنا دیا۔ کامل علی آغا اب محفوظ ہو چکے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک امیدوار سیف الملوک کھوکھر نے کچھ امیدواروں کو غیرمحفوظ کر دیا۔ گڑبڑ اتنی بڑھ گئی کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت اور اپوزیشن کے سب امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کی تجویز پیش کی۔
اس تجویز پر عملدرآمد کے لئے ضروری تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے امیدوار دستبردار کراتیں۔ چوہدری صاحب نے دونوں اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ قائم کیا۔ بہت بحث ہوئی۔ شکوے شکایتیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی مان گئی لیکن مریم نواز نہیں مانتی تھیں۔
مجھے مریم نواز نے خود بتایا کہ میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کو دستبردار کرانے کے سخت خلاف تھی لیکن جب پارٹی کے سینئر لوگوں نے اصرار کیا تو میں نے اُن کی بات مان لی۔ مسلم لیگ (ن) کے ان سینئر لوگوں کے ساتھ تحریک انصاف کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اگر کوئی رابطہ تھا تو وہ چوہدری پرویز الٰہی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی پنجاب میں سینیٹ کے تمام امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا اعلان ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس کا کریڈٹ چوہدری صاحب کو دیا اور تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال نے بھی اس کا کریڈٹ چوہدری صاحب کو دیا۔
چوہدری صاحب کو ملنے والا یہ کریڈٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ انہوں نے یہ کریڈٹ اپنے نام لگوانے کے لئے بڑے جتن کئے۔ بات نہ بنی۔ پھر ایک کالم لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ ’’ولید اقبال کا یہ کہنا کہ پنجاب میں بلا مقابلہ سینیٹرز منتخب ہونے کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو جاتا ہے، قطعاً درست نہیں۔
یہ کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ہے‘‘۔ میں نے یہ کالم نہیں پڑھا تھا۔ لاہور سے ایک دوست نے فون کرکے توجہ دلائی کہ ’’یہ کالم پڑھئے، اس میں کچھ الفاظ آپ سے بھی منسوب ہیں‘‘۔ کالم پڑھ کر میں نے چوہدری پرویز الٰہی سے بات کی تو وہ ہنسنے لگے۔
انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کے ارکانِ پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو ملنے سے انکار کرنا شروع کیا تو وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے مجھے بار بار فون کیا اور کہا کہ آپ کچھ کریں۔ چوہدری صاحب نے پوچھا کہ یہ کالم کس نے لکھا ہے؟ میں نے بتایا کہ ابھی پچھلے ہی مہینے وزیراعلیٰ پنجاب نے مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر تحسین فراقی کو ہٹا کر وہاں اپنے ایک منظورِ نظر کو تعینات کیا ہے جن کو ایک سال کا کنٹریکٹ ملا ہے اور آپ کے خلاف یہ کالم اسی کنٹریکٹ ملازم نے لکھا ہے۔
چوہدری صاحب پھر سے ہنسنے لگے۔ کہاں اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے والے ماہر اقبالیات ڈاکٹر تحسین فراقی اور کہاں بزدار صاحب کے مدح سرا… سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب کے قلمی ہرکارے اپنے سینیٹر ولید اقبال کو غلط کہیں اور اسپیکر پنجاب اسمبلی سے اُن کا کریڈٹ چھیننے کی ناکام کوشش کریں وہاں کہنے والے یہی کہیں گے کہ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleمسعوداشعرکا کالم:وہ آواز کہاں گئی؟
Next Article نصرت جاویدکا تجزیہ:پاکستان بھارت معاہدہ:’’خیر کی خبر‘‘
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

ستمبر 24, 2026

محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم

ستمبر 24, 2026

مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم

ستمبر 24, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم ستمبر 24, 2026
  • محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 24, 2026
  • مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم ستمبر 24, 2026
  • جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ ستمبر 23, 2026
  • امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 23, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.