غزہ : غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے بدترین بمباری کا سلسلہ جاری ہے جہاں بجلی، روٹی اور پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی بدترین نسل کشی کے خطرات سے دو چار ہیں۔
اسرائیل نے گزشتہ ہفتے ہونے والے حماس کے حملے کے بعد سخت کارروائیوں کا اعلان کیا تھا، حماس کے حملے میں 1300 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے اور 150 سے زائد کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔
بعد ازاں اسرائیل غزہ کا مکمل محاصرہ کرلیا اور بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کردی اور اشیائے خورد کے تمام راستے بند کردیے اور فضائی کارروائیاں شروع کردی تھیں اور ایک ہفتے بعد دکانوں میں اشیائے خورو نوش کی قلت کا سامنا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق فلسطین کی وزارت صحت نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئیں کارروائیوں میں اب تک 724 بچوں سمیت 2 ہزار 215 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جاں بحق افراد میں 458 خواتین بھی شامل ہیں، 8 ہزار 714 افراد زخمی ہوئے، اس سے قبل بیان میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 324 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں 45 سالہ شہری ایاد ابو مطلق نے بتایا کہ بجلی، کھانا اور کا بحران ہے، ہر جگہ بحران ہی بحران ہے، جہاں ہزاروں شہری اسرائیلی کارروائی کے خوف سے شمال کی طرف جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاروں مختلف بیکریوں کا چکر لگایا جہاں لمبی قطاریں ہیں اور چیزیں ختم ہوچکی ہیں، صرف خدا ہی یہ مسائل حل کرسکتا ہے۔اسرائیل کی جانب سے جمعے کو شمالی علاقے چھوڑنے کا الٹی میٹم دیے جانے کے بعد جنوبی غزہ میں لوگوں کا سیلاب آگیا ہے، جس کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قلت ہونے لگی ہے۔
خان یونس کے شہری نے بتایا کہ میں بنیادی غذائی اشیا، انڈے، چاول اور بچوں کے لیے دودھ تلاش کر رہا تھا لیکن مجھے کوئی چیز نہیں ملی۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ہمارے بچوں کو بھوک سے ستا کر ہمارے خلاف لڑ رہا ہے، وہ بچوں کو یا تو بمباری سے مار رہے ہیں یا بہت جلد بھوک سے مریں گے۔
شمالی غزہ سے ہجرت کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ راستے بہت دشوار گزار ہیں اور نقصانات کی وجہ سے کئی جگہوں پر گزرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
گزشتہ روز شمالی غزہ کے 10 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو اسرائیل کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر جنوبی غزہ جانے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا، یہ الٹی میٹم صبح 5 بجے (مقامی وقت کے مطابق 2 بجے) پورا ہوچکا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے آج علی الصبح ایک ویڈیو بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے فلسطینی شہریوں کی جنوب کی جانب نمایاں نقل و حرکت دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے ارد گرد اسرائیل کی ریزرو فوج اگلے مرحلے کے آپریشن کے لیے تیار ہو رہی ہے، وہ غزہ کی پٹی کے چاروں طرف، جنوب میں، مرکز میں اور شمال میں موجود ہیں اور وہ خود کو کسی بھی ہدف سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کا اختتام یہ ہوگا کہ ہم حماس اور اس کی عسکری صلاحیت کو ختم کر دیں گے اور صورتحال کو بنیادی طور پر اس طرح بدل کر رکھ دیں گے کہ حماس دوبارہ کبھی بھی اسرائیلی شہریوں یا فوجیوں کو نقصان پہنچانے کے قابل نہ رہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

