Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, نومبر 1, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
  • نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
  • اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
  • ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
  • نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
  • خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » فاروق عادل کا کالم:سیالکوٹ کا عفریت
فاروق عادل

فاروق عادل کا کالم:سیالکوٹ کا عفریت

ایڈیٹردسمبر 7, 20212 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
farooq adil
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سیالکوٹ میں توہین مذہب کے نام پر جو کچھ ہوا، اس نے اوسان خطا کر دیے۔ دیر تک کچھ سجھائی نہ دیا۔ پھر آہستہ آہستہ ایک منظر نگاہوں میں اترا۔ کوئی چالیس برس ہوئے ہوں گے۔ وہ دن گرمی کی چھٹیوں کے تھے۔ ایک صبح جب ہم اٹھے تو سنسنی کی ایک لہر یہاں سے وہاں پھیلی دکھائی دی۔
سنسنی کا کوئی مادی وجود تو ہرگز نہیں ہوتا لیکن اس روز اپنے لڑکپن کی آنکھوں سے میں نے اسے بچشم خود دیکھا۔منظور بابے خادم کا ریڑھی بان تھا۔ دھان پان سا آدمی تھا لیکن جسم اس کا کمایا ہوا تھا۔ تن سازی کے زور پر نہیں بلکہ جان توڑ مزدوری کی برکت سے۔ صبح شام بیلچا چلانے سے اس کے ہاتھ لوہے کی طرح مضبوط ہو چکے تھے۔
اس کے باوجود شام کے دھندلکے میں جب وہ گھاس کے سبز قطعے پر محلے کے لڑکوں بالوں سے کشتی کھیلتا تو ہمیشہ ہار جاتا۔ یہ شکست اس کے زور بازو کی شکست ہرگز نہ ہوتی بلکہ اس کی پشت پر صدیوں کی غلامی تھی۔ منظور کا ذہن جس سے کبھی آزاد نہ ہو پایا۔
صبح اٹھ کر جب میں گھر سے باہر آیا تو سڑک پر رونق معمول سے کم تھی۔ اس روز چارہ منڈی روڈ پر آنے جانے والے اکا دکا ہی تھے۔ کوئی سائیکل سوار کوئی پیدل۔ یہ سب جلدی میں دکھائی دیتے تھے۔ یوں جیسے وہ جلدی جلدی پل صراط سے اتر کر گھر کی محفوظ چار دیواری میں محفوظ ہو جانا چاہتے ہوں۔ میں نے منظور کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ منظور نے گھبرائے ہوئے انداز میں میری جانب دیکھا اور کہا: ’ قتل ہو گیا ہے۔ ملکوں کے ہاں چوری کی نیت سے کوئی داخل ہوا تھا۔ چوکیدار نے گولی چلا دی اور اس نے وہیں دم دے دیا ‘۔
منظور نے یہ خبر ہراس کے عالم میں دی۔ اس کیفیت اور ماحول نے اس روز سنسنی کو مجسم آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ کچھ کہتے ہوئے لوگوں کی آواز بلا وجہ دھیمی ہو جاتی۔ اس روز لوگوں نے بلا سبب کہیں آنے جانے سے گریز کیا۔ کچھ لوگ اپنے گھروں کے سامنے تھڑوں اور دکانوں کے سامنے بیٹھنے کے پھٹوں پر قریب قریب جڑ کر بیٹھ گئے۔ اور دھیرے دھیرے خوف کے عالم میں باتیں کرنے لگے۔ پھر اچانک ہل چل مچی اور لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں جانے کدھر سے نکل آئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ ڈاکو کی لاش دیکھنے کو جاتے ہیں۔
اسی ہجوم میں میٹرک کا یہ طالب علم بھی تھا۔ ہراس اور حیرت میں ڈوبا ہوا۔ ڈیرے پر مجمع بڑے دائرے کی صورت جمع تھا۔ اسی بھیڑ میں گھس کر بیچ میدان کے نگاہ ڈالی تو ریڑھ کی ہڈی میں بجلی کی طرح کوئی احساس اوپر سے نیچے تک سرایت کر گیا۔ سنسنی کو آنکھوں سے دیکھنے کی طرح یہ احساس بھی لوہے کی جلتی ہوئی کسی سلاخ کی طرح محسوس ہوا۔ وہ گھنی مونچھوں والا کوئی شخص تھا ۔ اس کے چہرے پر ابھری ہوئی ہڈیاں چغلی کھاتی تھیں کہ ضرور یہ شخص کسی زمیندار کا کمی ہوگا۔ گولی عین اس کے سینے میں پیوست ہوئی تھی۔ چہرے پر خوف اور حیرت کا احساس نقش ہو کر رہ گیا تھا۔ گویا تماشائیوں سے پوچھتا تھا کہ مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟
ہم لوگ مرنے والوں کا احترام کیا کرتے ہیں۔ یہ پہلی بار تھی جب میں نے کوئی لاش زمین پر اس بے چارگی کے عالم میں دیکھی۔ وہ بھی خون میں تر بہ تر۔ دیکھنے والے ابھی اپنے صدمے سے جان بر نہیں ہو پائے تھے کہ ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ لاش کے گرد سہمے ہوئے خاموش لوگوں میں بھنبھناہٹ شروع ہوئی پھر یہ آواز شور میں بدلی۔ کہنے والے کہہ رہے تھے کہ یہ خوب ہوا۔ مجرم کو موقع پر سزا دے دی گئی۔ یوں ہی اگر لوگ حوصلہ کریں اور مجرم کو ٹھکانے لگا دیا کریں تو جرم کا نشان تک مٹ جائے۔ یہ بھنبھناہٹ خوف پر غالب آئی اور یہ نوخیز جرم کو موقع پر ہی نمٹا دینے کے غیر معمولی جذبے کو اپنی جسم و جاں میں بھر کر گھر لوٹا۔
جذبات کے اسی وفور میں والدین کے سامنے جانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ یہ کیفیت دیکھ کر والد مرحوم جو چارپائی پر نیم دراز تھے۔ اٹھ بیٹھے۔ جلد میں احتیاط سے رکھے ربن کو نکال کر زیر مطالعہ جگہ رکھا۔ کتاب بند کی اور اسے تکیے کے پاس رکھ دیا۔ ٹوپی جو تکیے کے برابر دھری تھی، اٹھا کر سر پر رکھی پھر نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا: ’یہ جرم کی بیخ کنی نہیں بلکہ اپنی نوعیت میں خود ایک جرم ہے‘۔
اتنا کہہ کر وہ ذرا سی دیر کے لیے خاموش ہوئے پھر کہا: ’ یہ ایک ایسا جرم ہے جو انڈے بچے دیتا جائے گاجیسے چراغ سے چراغ جلتا جاتا ہے لیکن یہ جرم کا چراغ ہے، اس کے جلنے سے اندھیرا پھیلتا چلا جاتا ہے‘۔
گہرے دکھ میں ڈوبی جس کیفیت میں یہ جملے کہے گئے تھے، قصہ زمین برسر زمین نمٹتا دیکھ کر آنے والے نوعمر کی سمجھ نہ آ سکے۔ یہ دیکھ کر جنت کے اُس مکین نے پیار سے پاس بٹھایا اور سمجھایا۔ جن کا دعویٰ ہے کہ مارا جانے والا ڈاکو تھا۔ انھیں شکایت کنندہ یا متاثرہ فریق کہتے ہیں۔ یہ فریق مظلوم ہو سکتا ہے لیکن یہ مظلومیت اسے دو اختیار کبھی فراہم نہیں کرتی۔ ایک عدالت کا کردار کہ سزا سنا دے اور دوم، ریاست کا کردار کہ وہ اپنی سنائی ہوئی سزا کو عملی جامہ پہنائے۔ وہ معاشرہ جو اپنے شہریوں کو ایسی چھوٹ دیتا ہے، دراصل اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتا ہے۔ ایسا سماج کبھی پر سکون نہیں ہو پاتا، ہمیشہ بد امنی کا شکار رہتا ہے۔
ذرایع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر غیض و غصب سے بھرے ہوئے ہجوم کی تصویریں دیکھ کر پہلے تو ایک یاد آئی۔ پچپن میں دیکھے ہوئے اس ہجوم کی یاد۔ ایسے ہجوم گزشتہ پانچ چھ دہائیوں میں ہم نے بار بار دیکھے ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ ایسے واقعات، خاص طور پر ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے۔اس کی مذمت میں بھی ہمارے ہاں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی اسی ملک میں ہوا کہ مجرموں کو ہیرو بنایا گیا اور انھیں سزا دینے کو جرم قرار دیا گیا۔نہایت دکھ کی بات ہے کہ ہماری ریاست میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دعوے بڑے بڑے ہیں۔
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک عرصے تک ریاست کے کل پرزے رہے ہیں۔ کاروبار ریاست ان کے ہاتھوں انجام پایا۔ کچھ لوگ میڈیا میں بیٹھ کر ریاست سے انکار کرتے ہیں۔ کچھ دیدہ ور عوام کو ریاست سے بغاوت پر ابھارتے ہیں۔ اور کچھ کھلم کھلا آئین، قانون اور ریاست کا انکار کرتے ہیں۔ یہ سب کر کے وہ لوگ عوام کو توہین مذہب کے نام پر لا قانونیت پر اکساتے ہیں۔ یہ طرز عمل ہمارے معاشرے پر پٹرول چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ستم یہ ہے کہ یہی عناصر پٹرول چھڑکنے کے بعد اسے دیا سلائی بھی دکھاتے ہیں۔
معاشرے میں زہر بھرنے والے تاریخ کے مختلف مراحل پر ابھرنے والے ایسے کردار معاشرے میں زہر بھرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یہی ظلم ہے جس کے خونین مظاہر ہمیں سیالکوٹ اور چار سدہ سمیت ملک بھر میں دکھائی دیتے ہیں۔ان جرائم پر قابو پانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ملک کو ہجوم کی نفسیات سے نکالا جائے۔ اس کار خیر میں علما سمیت پورا معاشرہ ریاست کا ساتھ دے۔ نفرت کے سوداگروں کی پشت پر کوئی کھڑا نہ ہو۔ اگر کوئی فرد یا طبقہ ایسا کرے تو اسے عبرت ناک سزا دی جائے۔ ایسے ناپاک مقاصد کے لیے ذرایع ابلاغ کا استعمال ناممکن بنا دیا جائے۔
ذرایع ابلاغ سے نفرت کے پرچار کو غداری تصور کر کے غداری کی سزا دی جائے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران میں انتہائی پسندی کے پر تشدد مظاہرے تواتر سے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں کیونکہ اب یہ عفریت معاشرتی امن ہی کو تباہ نہیں کر رہا ہے بلکہ اس نے ہماری معیشت کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔سانحہ سیالکوٹ کے بعد ہماری برآمدات کا کیا حشر ہونے والا ہے، یہ دیکھنے کے لیے ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
(بشکریہ: ہم سب)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleالیکشن کمیشن فیصل واڈا کے خلاف کارروائی جاری رکھے: اسلام آبادہائی کورٹ
Next Article صہیب اقبال کا کالم :ایک سیاستدان کے آباؤ اجداد سے شکوہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

نومبر 1, 2026

فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اکتوبر 31, 2026

گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

اکتوبر 31, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ نومبر 1, 2026
  • فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 31, 2026
  • گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ اکتوبر 31, 2026
  • نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم اکتوبر 30, 2026
  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی اکتوبر 29, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.