داسو : اپر کوہستان کے علاقے داسو میں ڈیم منصوبے کے قریب ایک بس حادثے میں چھ چینی شہریوں سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوہستان عارف خان یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بس کو روڈ حادثہ پیش آیا اور یہ کوئی دھماکہ یا دہشتگردی کا واقعہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ عارف خان یوسفزئی کے مطابق یہ ایک خطرناک سڑک ہے جہاں بد قسمتی سے روڈ حادثے عام ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرین کی منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ چکا ہے۔‘ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان کے دفتر کو ملنے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں مجموعی طور پر دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چھ چینی شہری، دو ایف سی اہلکار، بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر شامل ہیں۔
تاہم انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ‘اپر کوہستان میں ایک بس میں بڑا دھماکہ ہوا جس میں چینی انجینیئرز سفر کر رہے تھے۔‘روئٹرز کے مطابق اس اہلکار کا کہنا ہے کہ اپر کوہستان میں اس بس پر 30 سے زیادہ چینی انجینیئرز موجود تھے اور یہ داسو ڈیم کے مقام کی طرف روانہ تھی۔
تاہم پولیس تھانہ داسو کے مطابق یہ واقعہ برسین کے مقام پر شاہراہ قراقرم پر چلتی گاڑی میں پیش آیا ہے۔ واقعے کے بعد ایس ایچ او اور تمام پولیس افسران اور اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔
تھانہ داسو کے مطابق ’ہمارے پاس ابھی صرف ابتدائی اطلاع ہی دستیاب ہے۔‘ جبکہ کوہستان پولیس کنٹرول کے مطابق اس مقام پر انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس نہیں ہیں۔واضح رہے کہ برسین کا مقام اپر کوہستان کے ہیڈ کوارٹر داسو سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔
دوسری جانب واقعے کے بعد صوبائی حکومت کا اعلیٰ سطحی وفد کوہستان روانہ ہو چکا ہے جس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے ساتھ چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ شامل ہیں۔کامران بنگش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاملہ کی جانچ کے بعد میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔
برسین اپر کوھستان داسو کا مقام شاہراہ قراقرم پر واقع ہے۔ یہ جگہ داسو ڈیم کی سائٹ مقام میں بھی آتی ہے۔ اس مقام کے قریب ہی پانی کا ایک پائپ ہے جہاں سے مقامی لوگ پانی بھرتے ہیں اور اس سڑک کے قریب ہی آبادی ہے۔
اس حادثے کے وقت موقع پر موجود عینی شاہدین نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ ’یہ واقعہ صبح کے وقت پیش آیا جب معمول کے مطابق ’داسو ڈیم میں کام کرنے والے کارکناں کی بسیں اپنے وقت پر آ رہی تھیں کہ یک دم ہی دھماکے کی زور دار آواز آئی۔ جس کے بعد بس ہوا میں اچھلی اور نیچی گر پڑی جس کے بعد زخمیوں کی چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘
ایک اور عینی شاہد کے مطابق ’دھماکے کے بعد ایسے لگا کہ بس ہوا میں اڑ رہی ہیں۔ جس کے بعد وہ بس بھی زور دار آواز کے ساتھے نیچی آئی ہے۔ مقامی لوگ اس حادثے کو دیکھ کر موقع کی طرف دوڑے جہاں پر زخمی چیخ و پکار کر رہے تھے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
جمعہ, اکتوبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

