اسلام آباد : ملک میں آج اب تک کورونا سے مزید 55 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2839 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 148921تک پہنچ گئی ہے۔کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک پنجاب میں کورونا سے 1081 اور سندھ میں 853 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 707 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 85، اسلام آباد میں 83 ، گلگت بلتستان میں 17 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
آج بروز منگل ملک بھر سے اب تک کورونا کے مزید 2044 کیسز اور 55 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں پنجاب سے 1740 کیسز 50 اموات، اسلام آباد288 کیسز 5 اموات اور آزاد کشمیر سے 16 کیسز سامنے آئے ہیں۔
ادھر پنجاب کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے راولپنڈی ،اسلام آباداورلاہورکی طرح ملتان میں بھی 40سے زیادہ حساس علاقوں میں لاک ڈاﺅن کافیصلہ کیاہے ۔ان علاقوں کی تفصیل آج شام تک سامنے آجائے گی ۔ ذرائع کاکہناہے کہ اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مرحلہ وار لاک ڈاﺅن کیاجائے گا۔اس کی تفصیلات طے کی جارہی ہے کہ پہلے مرحلے میں زیادہ مریضوں والے کون سے علاقے لاک ڈاﺅن ہوں گے ۔لاک ڈاﺅن کے دوران میڈیکل سٹوراورکریانہ کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی ۔بغیرماسک کے کوئی بھی اپنے گھرسے نہیں نکل سکے گا۔اس حوالے سے تفصیلات طے کی جارہی ہیں ۔
ادھر سیکرٹری صحت پنجاب محمد عثمان کا کہنا ہے کہ لاہور میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے حتمی پلان منظوری کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوایا جائے گا۔سیکرٹری صحت پنجاب محمد عثمان کی زیرِ صدارت لاہور میں اجلاس ہوا جس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں زندگی رواں دواں رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن ایریاز میں ایس او پیز پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گاجب کہ ان علاقوں میں ضروریات زندگی کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ کیسز والے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا ممکن ہے، مربوط حکمت عملی سے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو کامیاب بنائیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت یاسمین راشد نے بتایا تھا کہ آج رات 12 بجے کے بعد شاہدرہ، شاد باغ، ہربرنس پورہ کے علاقوں کو بند کررہے ہیں جب کہ گلبرگ کے کچھ علاقے نشتر ٹاؤن اور علامہ اقبال ٹاؤن میں کچھ سوسائٹیز، والڈ سٹی اور مزنگ کے علاقوں کو بھی بند کردیا جائےگا۔انہوں نے کہا تھا کہ ان علاقوں کو کم از کم 2 ہفتوں کے لیے بند کیا جائےگا تاہم اس دوران ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء اور فارمیسی کھلی رہیں گی جب کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقوں کو کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے کیسسوں کی وجہ سے ہم سیکٹر آئی – 8 ( یہاں ایک دن میں دو سو کیسس نکلے ہیں ) اور سیکٹر آئی -10 ( یہاں ٹوٹل چار سو کیسس ہو چکے ہیں ) کو سیل کرنے کا پلان بنا رہے ہیں ۔ اگلے 24 گھنٹوں میں نوٹیفیکیشن ایشو ہو سکتا ہے ۔
فیس بک کمینٹ

