فقہی اصول کے مطابق انسانی اعضا اور بافتوں کی خرید و فروخت عام حالات میں جائز نہیں سمجھی جاتی۔ البتہ اگر جان بچانے یا شدید بیماری کے علاج کے لیے کوئی ناگزیر طبی ضرورت ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو تو بعض فقہا نے ضرورت کے اصول کے تحت محدود گنجائش بیان کی ہے۔ اسی لیے انسانی پلیسینٹا کا معاملہ صرف طب کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور شریعت کا بھی موضوع ہے۔
اتوار, جولائی 26, 2026
تازہ خبریں:
- انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم
- بہار گزشت : وجاہت مسعود کی جیون کہانی کا ایک باب
- حسن رضا گردیزی ۔سرائیکی اور انگریزی : رضی الدین رضی کا 1989 میں لکھا گیا مضمون
- اٹھو، اب ماٹی سے اٹھو، جاگو میرے لال ( جنگ کے گم نام ہیرو ) – وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب اصل وارث آگئے ہیں، مریم نواز
- ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ٹانک میں خود کش حملہ : 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد لقمہ اجل
- جنرل عامر رضا کو ترقی دے کر پاکستان کی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا پہلا سربراہ مقرر کر دیا گیا
- عوام کا میدانِ جنگ ، جہاں روز حملے ہوتے ہیں : شہزاد عمران خان کا کالم
