Browsing: سید مجاہد علی

اب امریکہ بلاکیڈ کو ایران پر دباؤ کے مؤثر ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لیکن اس کے اثرات بھی زیادہ تر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ حکمران طبقے کو اس ناکہ بندی کے معاشی اثرات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے تہران میں فیصلہ سازی کے سوال پر اختلافات موجود ہونے کے باوجود انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اور شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بظاہر کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جو عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان سوچ کا فرق ختم کر سکتا ہو۔

تہران سے فراہم ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی تین ممالک پاکستان، عمان اور روس کے دورہ پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ جمعہ کی رات کو پہنچنے کے بعد وہ ہفتہ کی دوپہر تک اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران نے کسی بھی سطح پرامریکہ سے براہ راست بات چیت شروع کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ۔البتہ عباس عراقچی شاید امریکی تجاویز پر ایران کا جواب پاکستان تک پہنچانے کے لیے یہاں آرہے ہیں۔

تہران میں جاری اقتدار و اختیار کی رسہ کشی کی صورت حال میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران کب تک امریکہ کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملہ طے کرے گا البتہ صدر ٹرمپ کے بیانات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت سے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اسی لیے اب انہوں نے جمعہ تک مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی کوئی ڈیل ہوجائے تاکہ وہ اس تنازعہ سے نکل کر امریکہ کے مڈٹرم انتخابات پر توجہ مبذول کرسکیں۔

اگرچہ ایران کا مؤقف اصولی اور قابل فہم لگتا ہے کہ کسی ملک کو دھمکیوں کے ساتھ بات کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایرانی لیڈروں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قطعی مختلف وضع کے لیڈر ہیں اور ان کے بیانات کی روشنی میں مؤقف اختیار کرنے کی بجائے ایران کو بچانے، اس کے نظام کی حفاظت اور ایرانی عوام کی بہبود کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں۔

نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے ٹرمپ کے لیے اس مشکل اور غیر مقبول جنگ سے جلد نکلنا بے حد ضروری ہے۔ دوسری طرف ایران کی رجیم کو دکھائی دے رہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو اسے جنگی تباہی کے مشکل مسئلہ سے نمٹنے کے علاوہ ملک میں معاشی بے چینی، بیروزگاری اور بدحالی و غربت کے مسائل کا سامنا ہوگا۔

عمر فاوق ظہور ناروے میں ایک جانی پہچانی پاکستانی کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہؤا تھا۔ اس نے 18 سال کی عمر میں ایک ٹریول ایجنسی کھول کر اوسلو میں ہی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔ تاہم سفری دستاویزات کے فراڈ میں اسے اوسلو کی ایک عدلت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ لیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ 2010 میں اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے ایک مقامی بنک نورڈیا سے 60 ملین کرونر حاصل کیے۔ وہ خود اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ لیکن کبھی ناروے آکر اپنے خلاف الزامات کا دفاع بھی نہیں کرسکا۔

ہرجانے کی ضد پر قائم رہنے سے عرب ممالک بھی اپنے انفرا اسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کا ازالہ چاہیں گے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ایران پر مسلط کی ہوئی جنگ غیر قانونی تھی۔ لیکن اس وقت امریکہ کسی ضابطے یا ا صول کو نہیں مانتا، اقوام متحدہ بے وقعت ہوکر رہ چکی ہے۔ ان حالات میں کسی بھی طرح دانشمندی سے امریکی جارحیت کا راستہ روکنا ضروری ہے۔

ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرانے، اور تنازعات ختم کرانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں نوبل امن انعام کا ان سے بڑا حقدار پیدا نہیں ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے بسیار گوئی اور انا کے اسیر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے رویہ کی وجہ سے دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔