میں اپنے بچپن سے یاد کروں تو اس وقت بڑی بوڑھیاں کہا کرتی تھیں۔ ’’جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں‘‘۔ ذرا بڑے ہوئے تو پتہ چلا…
Browsing: لکھاری
گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ نے ہمارے ذہنوں میں کشادگی لانے کے بجائے ہمیں کنوئیں کے مینڈکوں میں بدل دیا ہے۔ بین الاقوامی حالات سمجھنے کی…
(گزشتہ سے پیوستہ) مہاراجہ رنجیت سنگھ کی نواسی شہزادی بمباوالی جس کا ذکر میں نے اپنے پچھلے کالم میں کیا۔ ماڈل ٹائون اے بلاک میں چونکہ…
حکمرانوں کی طرف سے جھوٹے الزامات اور دھمکیاں مجھ جیسے صحافیوں کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔ ہر حکمران صحافیوں اور دانشوروں کو اپنا ہم نوا بنانے…
گزرے ہفتے کے آخری دو دنوں کے دوران چند تقاریب اور دوستوں کے کھانوں میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ وہاں موجود سرکار کے نمائندوں سے گفتگو…
جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کی طرف سے ملک میں مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش کے بعد اب انہیں پارلیمنٹ میں مواخذے کا…
برادرم علی سخن ورکو ہم اس زمانے سے پڑھ رہے ہیں جب وہ روزنامہ امروز کے سنڈے میگزین ( جواس زمانے میں ”جمعہ میگزین“ کہلاتا تھااور…
’’برزخ میں خوش آمدید۔ یہاں پہنچنے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟‘‘ ’’شش شکریہ….‘‘ اُس کے منہ سے بمشکل نکلا۔ ’’تکلیف کا تو مجھے علم نہیں…
سئیں خواجہ غلام فرید اور خانوادہ بھگت(فقیرا بھگت اور موہن بھگت) اور روہی آ پس میں لازم وملزوم ہیں۔انہی شخصیات نے روہی کے لق ودق صحرا…
گزشتہ چند دنوں سے اخبارات کی شہ سرخیاں اور ٹی وی چینلوں پر مسلسل چلائے ٹکر یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ پاکستان کا سٹاک ایکس…
