نیم تاریک ہال کے درمیان میں شیشے کے صندوق میں ہوچی منہہ کی حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ اب بھی فوجی وردی میں ملبوس کہ ان…
Browsing: مستنصر حسين تارڑ
ویت نام دریائے سرخ کی سرزمین تھی۔ یعنی سُرخ سلطنت کا دریا بھی سُرخ تھا۔ ہنوئی کے بہت ہی عالی شان ایئر پورٹ کے باہر سمیر…
’’یہ زندگی صرف ایک پھول کو جھک کر دیکھنے‘ اس پر غور کرنے کے لیے ناکافی ہے اور یہ دنیا تو بہت بڑی ہے‘‘ زندگی ناکافی…
یہ ان دنوں کے قصے ہیں جب عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال زیر تعمیر تھا اور وہ دنیا بھر میں فنڈ ریزنگ ڈنر اور کانسرٹ…
دو ایسے مواقع ہوتے ہیں، جب ہمارے کالم نگار کھل کھیلتے ہیں، جوبن پر آ جاتے ہیں۔ ایک جب کوئی نامور ادیب یا کوئی اور مشہور…
جیسے مجید امجد نے کہا تھا کہ برف گرتی ہے، ساز بجتے ہیں، شہر میونخ میں آج کرسمس ہے تو ان اثر انگیز مصرعوں کا ستیا…
ہم کھنڈروں کے درمیان جو اونچے نیچے راستے تھے ان سے اتر کر ایک مختصر ویرانے میں اترے جہاں جھاڑ جھنکار کی اوٹ میں کچھ قدیم…
تو بات موہنجو داڑو کے کھنڈروں میں سے برآمد ہونیوالے ’’گرینڈ پریسٹ‘‘ کے کھمبے کی ہو رہی تھی جس نے اپنے شانوں پر سندھی اجرک اوڑھ…
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی بہشت کی قربت میں زندگی کرتے ہیں اور آپ کو اس کی موجودگی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ یوں…
ہم اپنے بزرگوں کی شان میں گستاخی کئے بغیر کیا کہہ سکتے ہیں جنہوں نے چکور کو ہمارا قومی پرندہ قرار دیا۔ چنبیلی کو قومی پھول…
