ہم اتنے بودے لوگ ہیں کہ نہ ہم اپنی مادری زبان کی قدر کرتے ہیں نہ اپنی خوراک کی قدر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے…
Browsing: مستنصر حسين تارڑ
ہم سیم ریپ کے شہر اور انگ کور واٹ کے مندروں سے پچاس ساٹھ کلومیٹر کی مسافت کے بعد کمبوڈیا کے دل میں داخل ہورہے تھے۔…
جیسے ہماری نسل کے بابا جات ویت نام کو ہوچی منہہ کے حوالے سے جانتے تھے اسی طرح کمبوڈیا کو ہم پرنس سہانوک کی صورت میں…
سو چہروں والے بایون مندر کی بھول بھلیوں میں میری لیلیٰ گم ہو گئی تھی اور میں ’’لیلیٰ لیلیٰ پکاروں میں بَن میں، پیاری لیلیٰ بسی…
کمبوڈیا کے شہر سیم ریپ کے انگ کورٹ واٹ مندروں کی سلطنت کے بھید مفت میں ہاتھ نہیں آتے ان میں داخلہ کے ٹکٹ ایک وسیع…
1860ء میں ایک فرانسیسی سیاح کمبوڈیا کے شہر سیم ریپ میں آ نکلا اور اس نے وہاں گھنے جنگلوں میں نیم پوشیدہ ایک عظیم معبد کو…
پچھلے چند برسوں سے میں تقریباً گوشہ نشین ہوں۔ سویرے سویرے ماڈل ٹاؤن پارک میں‘ پھر دوستوں سے فضول نوعیت کی گفتگو اور میں آپ کو…
قارئین میں اچھا بھلا ویت نام سے کمبوڈیا پہنچ چکا تھا، شہر سیم ریپ کی شب میں ’’پب سٹریٹ‘‘ کی رنگینیوں کے بارے میں کالم باندھنے…
’’ساپا ساپا‘‘ لینڈ کروزر کی پچھلی نشست پر اودھم مچاتے ہمارے دو پانڈوں نے نعرہ لگایا۔ یاشار اور طلحہ کا وطیرہ تھا کہ ہم جدھر کا…
میں نے اپنے سفر نامے ’’نیو یارک کے سوانگ‘‘ میں اس شہر کی ایک پہچان درج کی ہے اور وہ ہے ایک نیکر اور بلاؤز میں…
