ہم دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم کیا سوچتے ہیں، کس چیز کو اہم سمجھتے ہیں اور اختلاف کے وقت ہمارا ظرف کتنا ہے۔ اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے؛ یہ بھی سوچیں کہ لوگ اسے پڑھ کر ہمیں کیسا انسان سمجھیں گے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہم صرف الفاظ شیئر نہیں کرتے، اپنا کردار بھی شیئر کرتے ہیں۔
Browsing: صابر جروار
ایک ایسا آزاد منش لڑکا جس کا جو جی چاہے کر گزرے ۔ جو من میں آئے پورا کرے۔ جو سوچے پا لے۔ نہ کوئی زیادہ…
گزشتہ سے پیوستہ اگر طالب علم روزانہ کالج آتے رہیں۔ لیکچرز سنتے رہیں تو یقین جانیں انہیں کسی اضافی تعلیمی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔…
گزشتہ سے پیوستہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ترقی طالب علموں کے لیے کتنی ثمر آور ہو گی اس کے لیے ضرورہ ہے کہ نجی تعلیمی اداروں…
گزشتہ سے پیوستہ میرے تدریسی تجربات اور مشاہدات کالج لیول کے ہیں۔ میں نے چوبیس سال پہلے تدریس کا آغاز کیا ہی انڑ ، گریجویشن اور…
گزشتہ سے پیوستہ ہمارا معاشرہ مفلوج ہو چکا ہے۔ یہ معاشرتی زوال راتوں رات نہیں آیا۔ اس زوال میں ہمارا برسوں پرانا معاشرتی اجتماعی رویہ شامل…
