Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, ستمبر 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
  • دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
  • اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
  • ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
  • پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
  • مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » سستی ، کاہلی ، بے حسی : کیا نئی نسل نے یہ سب والدین سے حاصل کیا ؟ پروفیسر صابر جروار کا تجزیہ ( دوسری قسط )
تجزیے

سستی ، کاہلی ، بے حسی : کیا نئی نسل نے یہ سب والدین سے حاصل کیا ؟ پروفیسر صابر جروار کا تجزیہ ( دوسری قسط )

ایڈیٹرجولائی 26, 202521 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
sabir jarwar
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

گزشتہ سے پیوستہ

ہمارا معاشرہ مفلوج ہو چکا ہے۔ یہ معاشرتی زوال راتوں رات نہیں آیا۔ اس زوال میں ہمارا برسوں پرانا معاشرتی اجتماعی رویہ شامل ہے۔ ہم نے یہ رویئے پالے پوسے ہیں۔ ان کو بڑا کیا ہے۔ میں نے اپنے چوبیس سالہ تدریسی کیریر میں جتنا بے حس ، بے سمت اور سست نسل اب دیکھی ہے شاید ہی کبھی دیکھی ہو۔ آج کے نوجوان میں یہ سستی ، کاہلی، لا پرواہی ، غیر ذمہ داری اور بے سرو سامانی اسے بنیادی طور پر اپنے گھر سے ملی ہے۔ بعد میں گلی محلے اور ہم جولی ساتھیوں نے اپنے غیر محسوس نقش چھوڑے۔ بچہ بڑا ہوا تو اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا دائرہ بھی وسعت اختیار کر گیا۔ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے ساتھی ، اساتذہ ، اداروں اور سوسائٹی کے اپنے دائمی اثرات سرایت کرتے چلے گئے۔ پھر نوجوان نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو اس کی عادتیں بگڑ چکی تھیں۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا، جاگنا سونا ، چلنا پھرنا سب بے ربط اور بے مقصد تھا۔ بے کار عادتیں اس کا معمول بن چکی تھیں۔ پھر عادتیں کب بدلتی ہیں۔
جہاں گود ،گھر ، گلی ، محلہ، شہر ، سکول، کالج یا یونیورسٹی کے بچوں کی زندگی میں انمٹ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہاں ملکی، سیاسی، معاشی اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ وطن عزیز میں زندگی کی جنگ لڑتا آج کا نوجوان مایوسی کے پاتال میں کہیں گم ہو چکا ہے تو اس کے پیچھے بھی ہماری کمزور اور بے ثمر تعلیمی پالیسیاں حائل ہیں۔ آج کے نوجوان میں وقت کی قدر نہیں۔ وہ وقت کو بے مقصد اور فضول ضایع کرنے میں یکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے آج کا نوجوان گھر بیٹھا ہے تو ڈش ٹی۔وی ، کیبل ، انٹرنیٹ اور موبائل میں محو ہے۔ گھنٹوں مسلسل اس عمل سے دید ، دماغ اور کمر کے درد کے طبی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ روحانی ، نفسیاتی اور مزاجی بگاڑ الگ پیدا ہوتا ہے۔ چڑچڑاپن، غصہ ، تخریب اور اخلاقی بد حالی ایسے نوجوانوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہیں۔
والدین کے لئے اب بہت ضروری سا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کریں۔ پیار سے سمجھائیں۔ ضرورت پڑے تو سرزنش بھی کریں۔ والدین اپنے بچوں کے سامنے خود بھی رول ماڈل ہوں۔ قابل تقلید ہوں۔ جب والد رات کو دیر سے گھر آئے گا۔ صبح بہت دیر سے جاگے گا۔ سگریٹ نوشی کرے گا، جھوٹ بولے گا ، بازاری کھانے کھائے گا پھر اس کے بچے کیسے مختلف ہوں گے۔ بچے کے لئے سب سے پہلا رول ماڈل اس کے والدین ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیئے وہ سکول جانے والے بچوں کو خود پک ڈراپ دیں۔ اگر خود یہ سہولت نہیں دے سکتے تو کم از کم کو میچور، ذمہ دار اور جاننے والا رکشہ وین ڈرائیور کا انتظام کریں ۔ بار بار ان لوگوں کو تبدیل نہ کریں۔ مستقل بنیادوں پر یہ لوگ آ پ اور آ پ کے بچوں کو اوون کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے اپنا رویہ بھی مناسب رکھیں۔ جتنے ان کا طے شدہ معاوضہ ہے کبھی کبھی تھوڑا سا اوپر بھی دے دیا کریں۔ عید وغیرہ ایسی خوشیوں میں ان کو گھر سے کچھ دے دیا کریں۔ قسم سے آ پ ان چھوٹے ملازمین کو عزت دیں گے تو یہ بہت وفادار ثابت ہوتے ہیں۔ آ پ کے بچوں کا آ پ سے بھی بڑھ کر خیال کرتے ہیں۔ جائز ضرورتوں کا خیال کریں۔ اپنی کیپسٹی میں اچھا کھانے اور پہننے کو دیں۔ ا س سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ بچوں کے اداروں کو گاہے گاہے چکر لگاتے رہیں۔ ان کی سرگرمیاں دیکھتے رہیں۔ تعلیمی کارکردگی کو مانیٹر کرتے رہیں۔ اپنے بچوں کے اساتذہ کرام اور ان کے ہم مکتب و ہم جماعت ساتھیوں سے ملتے رہیں۔ کم از کم مڈل تک بچوں کو موٹر سائیکل نہ دیں۔ میٹرک میں اپنی موجودگی میں ان کو ضرورت سمجھیں تو بایئک دیں مگر آپ خود ساتھ بیٹھے ہوں۔ ان کے دوستوں کو آ بزرو کریں۔ کوشش کریں آپ کا بچہ اچھے بچوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔
انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی اولاد ہوتی ہے۔ اسی اولاد سے نسل آگے چلتی ہے اور پہچانی جاتی ہے۔ والدین اولاد کی پہچان اور اولاد اپنے والدین کی پہچان ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر چیز بدلی جا سکتی ہے نئے سرے سے خریدی جا سکتی ہے۔ یا پھر پسند نہ ہوتو رد کی جا سکتی ہے ۔ مگر اولاد ہی ایک ایسی عزیز اور انمول عطیہ خدا وندی ہے جسے نہ تو خریدا جا سکتا ہے ۔ نہ بدلا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی یکسر رد کیا جا سکتا ہے۔ والدین کا فرض ہے وہ اپنے بچوں کو مانیٹر کریں۔ کوشش کریں ان کا بچہ رات کو دیر تک نہ سوئے۔ بچوں میں صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈالی جائے۔ پڑھ پڑھ کے کھیلے ، کھیل کھیل کے نہ پڑھے۔ جتنا ممکن ہو بچے کو سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے۔ میٹرک ، انٹرمیڈیٹ تک بچے کو ذاتی موبائل لے کر نہ دیا جائے۔ اگر سکول کالج کا کوئی پیغام یا نوٹس یا ہوم ورک موبائل پہ آتا ہے تو والدین ساتھ بیٹھ کر کام کروایئں۔ بچوں میں غلط صحیح کا شعور پیدا کیا جائے۔ زمانے کی آگاہی دی جائے۔ اداروں اور اساتذہ کے انتخاب میں ذمہ داری برتی جائے۔ پیشہ ورانہ ، ذمہ دار ، با کردار قابل قدر اور محنتی اساتذہ کی خدمات لی جایئں۔ ونگارو ، کم عمر ، بے پیشہ ور غیر ذمہ دار لوگوں سے ہر ممکن حد تک احتیاط برتی جائے۔ جب ہم اپنی ایک لاکھ کی بایئک کسی غیر ذمہ دار شخص کو نہیں دیتے تو ہم اپنی عزیز ترین اور قیمتی ترین چیز اولاد غیر ذمہ دار ہاتھوں میں کیسے سونپ آتے ہیں ۔

جاری ہے ۔۔۔۔

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں عدلیہ کی عمارت پر جیش العدل کا حملہ: نو افراد ہلاک، 13 زخمی
Next Article سید مجاہدعلی کا تجزیہ : عمران خان اور عافیہ صدیقی کے مسئلہ پر اسحاق ڈار کی ٹھوکر
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ

ستمبر 22, 2026

نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی

ستمبر 22, 2026

دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا

ستمبر 22, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ ستمبر 22, 2026
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی ستمبر 22, 2026
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا ستمبر 22, 2026
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا ستمبر 22, 2026
  • دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم ستمبر 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.