ڈاکٹر علی شاذف کے شعری مجموعے "حیرت کدے میں حیرت” کا مطالعہ اردو شاعری کی اس روایت کا تسلسل پیش کرتا ہے جہاں فکر اور جذبے کا امتزاج ایک نئی جہت کو جنم دیتا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں عصری حسیت اور کلاسیکی وقار کا ایک ایسا امتزاج نظر آتا ہے جو قاری کو محض وقتی لذت فراہم نہیں کرتا بلکہ اسے کائنات اور ذات کے اَن چھوئے گوشوں کی سیاحت پر بھی اکساتا ہے۔ ڈاکٹر علی شاذف کی شاعری میں "حیرت” کا عنصر محض حیرانی نہیں بلکہ ایک علمی جستجو ہے، جس کے ذریعے وہ انسانی رشتوں، معاشرتی نشیب و فراز اور داخلی کرب کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی شاعری کے اسلوب میں سادگی اور پرکاری کا ایک ایسا توازن ہے جو ایک اچھے سخن ور کی پہچان ہے۔ ڈاکٹر علی شاذف کی غزلوں میں جہاں "دل دھڑکنے” اور "یاد آنے” جیسے روایتی استعارے نئے مفاہیم کے ساتھ جلوہ گر ہیں، وہیں ان کا لہجہ ناصحانہ ہونے کے بجائے تجرباتی اور مشاہداتی ہے۔ ان کے اشعار میں ایک طرف اگر عشق کی گہرائی اور جدائی کا کرب ہے تو دوسری طرف زمانے کی بے حسی اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا نوحہ بھی موجود ہے۔
تمہاری جھریاں بتلا رہی ہیں
تمہارا وقت نکلا جا رہا ہے
جیسے مصرعوں میں وہ وقت کی بے رحمی کو جس سفاکی سے بیان کرتے ہیں، وہ ان کے شعری مرتبے کو بلند کرتا ہے۔
موضوعاتی اعتبار سے ڈاکٹر علی شاذف کی شاعری وسیع کینوس کی حامل ہے۔ وہ ایک طرف وجودی تنہائی کا تذکرہ کرتے ہیں اور دوسری طرف سماجی عدم مساوات اور جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کی نظم میں "کنویں کا بنے ایک مینڈک اگر تم” ایک گہرا علامتی بیانیہ ہے جو محدود سوچ اور جمود کے خلاف ایک شدید رد ِ عمل پیش کرتا ہے۔ یہ نظم قاری کو اپنی انفرادی دنیا سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں گم ہونے اور حقیقت کا ادراک کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ڈاکٹر علی شاذف کے ہاں "خوف”، "جدائی”، "مصلحت” اور "آزادی” جیسے الفاظ محض لفظ نہیں بلکہ جیتی جاگتی کیفیات بن کر سامنے آتے ہیں۔
یہ شاعری ایک ایسے حساس ذہن کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے گرد و پیش کی تبدیلیوں سے بے خبر نہیں ہے۔ ان کا کلام میں فنی پختگی اور معنوی گہرائی موجود ہے، جہاں وہ علامتوں اور استعاروں کے پردے میں زندگی کی تلخ سچائیوں کو نہایت مہارت سے بیان کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں الفاظ کی نشست و برخاست اور ردیف و قوافی کا استعمال ان کی فنکاری پر کامل دسترس کا بین ثبوت ہے۔
"حیرت کدے میں حیرت” درحقیقت ایک شعوری سفر ہے جو حیرت سے شروع ہو کر آگہی کی منزل تک پہنچتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر علی شاذف کی شاعری اپنے عہد کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے ـ میں اس شعری مجموعے کو تہہ ِدل سے سراہتے ہوئے ، اِس کی ادبی حلقوں میں کامیابی اور مستقبل کے لیے دعاگو ہوں ـ
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

