Browsing: عالمی خبریں

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ شاندار ہیں شخصیت کے مالک ہے اور اسی لیے زیادہ امکان ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں۔‘

اسماعیل بقائی کے مطابق، ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔
ان کا کہنا ہے ایران، پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تسنیم کی رپورٹ میں اسلام آباد میں موجود اس کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سہ فریقی بات چیت کا نیا دور کچھ منٹ پہلے شروع ہوا ہے جو ان کے بقول ’امریکہ کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے۔‘
اس کے مطابق مذاکرات میں ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شریک ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایرانی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سرکاری ایرانی ریڈیو و ٹیلی وژن ادارے نے بتایا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو عسکری شکست کا سامنا ہوا، اس کی نیوی ختم کر دی گئی، ایران کے سیکڑوں میزائل ہدف پر پہنچنے سے پہلے تباہ کیے گئے، فضائیہ تباہ کردی گئی، ایران نے ہماری شرائط سے انکار کیا، نئی ایرانی رجیم سمجھتی ہے کہ ڈیل بہتر ہے ، حالیہ جنگ میں ایرانی کی سپریم کونسل کی قیادت ختم کی گئی، ایران کی دفاعی قیادت، عسکری اور اینٹلیجنس قیادت کو ختم کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

یہ افراد ازمیت سے استنبول ایک کرائے کی گاڑی میں پہنچے تھے اور ان میں سے ایک کا تعلق ایسی تنظیم سے ہے جو مذہب کا غلط استعمال کرتی ہے۔ ان میں دو بھائی بھی شامل تھے، جن میں سے ایک کا نشے کرنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔‘

ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران پر جہنم برپا کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔