آئزن کوٹ نے کہا کہ ’عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔
Browsing: عالمی خبریں
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ کئی شہروں میں پابندیاں بھی عائد کی گئیں تاکہ مہنگائی اور سکولوں کے خراب حالات کے خلاف احتجاج گذشتہ ہفتے جیسے ہنگاموں میں تبدیل نہ ہو، جب پولیس اہلکار مظاہرین کی تعداد کے مقابلے میں کم پڑ گئے تھے،
سعودی عرب میں کینیڈا، جرمنی اور سپین کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں سے ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ ہونے کی اطلاعات کے بعد اس سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی سول ڈیفنس نے آگاہ کیا تھا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، دونوں افراد کو رواں برس جنوری میں شمال مشرقی شہر مشہد میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
کرد حقوق کی تنظیم ہنگاو کے مطابق رویا حشمتی نے بتایا تھا کہ تہران میں پراسیکیوٹر کے دفتر میں ایک خاتون اہلکار نے زبردستی ان کے سر پر سکارف پہنایا، جس کے بعد ایک مرد اہلکار نے ان کے کندھوں، کمر، کولہوں اور ٹانگوں پر کوڑے مارے۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی نماز جنازہ کیلئے انتظامات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان کی آخری رسومات کی…
تہران میونسپیلیٹی کے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر پاکستان، افغانستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی لوگوں کی آمد متوقع ہے۔
