خضدار شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔بلوچستان میں 2000 کے بعد سے خضدار میں بھی بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر سنگین بدامنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔یاد رہے کہ نو جنوری کو ضلع خضدار کے علاقے زہری میں 70 سے زائد مسلح افراد آئے تھے اور انھوں نے وہاں لیویز تھانے اور نادرا کے دفتر کو نذر آتش کیا تھا۔ ماضی میں خضدار میں ہونے والے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر زیادہ تر واقعات کی ذمہ داریاں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔
Browsing: تازہ ترین
ملتان ٹیسٹ پر ویسٹ انڈیز کی گرفت مضبوط ہوگئی، 254 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے 4 کھلاڑی 76 رنز پر آؤٹ ہوگئے ہیں۔…
پاکستانی ماڈل و اداکارہ نادیہ حسین نے شوبز انڈسٹری کے تاریک و مکروہ چہرے سے نقاب اتار کر کئی تلخ باتیں کی ہیں، جو وائرل ہورہی…
بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔ جسٹس منصور علی…
اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسرٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے جو عمران خان نے کہا وہی پارٹی…
اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گھریلو صارفین کے لیے گیس ٹیرف میں اضافہ مسترد کر دیا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)…
اسلام آباد: حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان اور سینیٹ میں مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی…
لارنس آف تھلیبیا (عریبیا نہیں ) احمد ندیم قاسمی کا ایک شاہکار افسانہ ہے، اُن کے بہت سے افسانوں کی طرح یہ افسانہ بھی گاؤں کے…
آزادی رائے بنیادی انسانی حق ہے۔ اسے جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کو اگر جدید دور میں سرخرو ہونا ہے تو اسے اپنے لوگوں کی زبان بندی کی بجائے ان کی رائے کا احترام کرنے کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر قانون سازی کے ذریعے گھٹن اور بے چینی میں اضافہ ہوگا اور ترقی کے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے۔
اسلم انصاری نے ہمیشہ اپنا بسیرا انسانوں ہی میں بسائے رکھا انھیں انسان کے بنیادی اور قلبی معاملات سے ہی سدا دلچسپی رہی۔ آ پ کا ہر شعر کسی نہ کسی باطنی کیفیت کا غماز ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آ پ کی غزل اور آپ کامزاج آپس میں لازم وملزوم ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کا مزاج اور غزل :اصل میں دونوں ایک ہیں تو بے جا نہیں ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ آپ ، آ پ کی غزل کے تعارف کا بنیادی حوالہ ٹھہری ہے ۔
