وہ ایک درمیانی عمر کی نہایت پروقار اور خوشحال نظر آنے والی خاتون تھی، جو دفتروں کی بغلی گلی میں ایک دیوار کا سہار ا لئے…
Browsing: افسانے
( گزشتہ سے پیوستہ ) رات کے کھانے پر سیما کا دل چاہا کہ وہ ارشد کو اپنی مکمل کی ہوئی پینٹنگ دکھائے اور اسے بارش…
بارش کی ایک بوند ایزل پر لگی ہوئی لینڈ سکیپ پر عین اس جگہ پڑی جہاں سیما بڑے انہماک سے پانی کی لہریں پینٹ کر رہی…
وہ کمالے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا بناتی۔ کمالے کو اچانک پتہ نہیں کیا ہو جاتا ،وہ کسی بھی بات پر ناراض ہو کے کھانا…
سرسبز پہاڑوں چشموں اور درختوں سے سجی وہ ایک بہت خوبصورت وادی تھی ۔وہاں جب صبح طلوع ہوتی تو منظر دیدنی ہوتا تھا ۔وہ ہرنی کی…
زندگی اس کی جہنم نہیں تھی مگر سکون بھی نہ تھا ۔ ریجیکشن کا لفظ تو جیسے اس کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا ۔…
آج سے پہلے بھی کئی بار میں ایسے فیصلے لے چُکی تھی۔ مگر قدم خود با خود اسکی طرف پلٹ آتے تھے۔ یا پھر شاید قسمت…
اُس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کراتے ہوئے ، میں اپنی انگلیوں سے اس کے بکھرے بال سنوارنے لگی ۔ جو میرا محبوب مشغلہ تھا۔…
اس کی سرخ انگارہ آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں چشموں سا شور نہیں بلکہ کسی مہیب دریا کی سی خاموشی تھی جو اپنے اندر نہ جانے…
تیری یہ جرات، تیری یہ مجال، میری بیٹی کی پلیٹ سے بوٹی اٹھائے، ایما بیٹی پکڑنا اسے، میں پلاس سے اس کے ناخن کھینچتی ہوں۔ جلدی…
