لاہور:سوشل میڈیا پر اپنے بے سرے گانوں کی وجہ سے شہرت پانے والے خود ساختہ گلوکار چاہت فتح علی خان کا عیدالفطر کی چاند رات پر ریلیز ہونے والا گانا ’بدو بدی’ یوٹیوب پر واپسی کے اگلے ہی دن پھر سے حذف کرلیا گیا۔
سیم سیم بٹ ڈفرنٹ، بدوبدی 2 فلاپ ہوگیا
چاہت فتح علی خان کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اپلوڈ گانا 28 ملین ویوز کراس کرچکا تھا۔ یوٹیوب کی جانب سے گانے کو حذف کیے جانے پر بیان دیتے ہوئے گلوکار نے دعوٰی کیا تھا کہ اگر گانا ڈیلیٹ نہیں ہوتا تو 100 ملین ویوز آرام سے کراس کرجاتا۔یوٹیوب کی جانب سے ‘بدوبدی‘ ری اپلوڈ ہونے کے بعد گلوکار چاہت فتح علی خان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے مداحوں سے کچھ اہم معلومات شیئر کیں۔
گلوکار چاہت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ ‘گانا یوٹیوب کی جانب سے ری اپلوڈ کردیا گیا تھا تاہم پھر سے اسٹرائک آنے کی وجہ سے دوبارہ حذف کردیا گیا۔
اُنہوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے اپنے گانے پر پیسہ خرچ کیا ہے مجھے کسی نے اسپانسر نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ‘جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں گلوکاری چھوڑ دوں تو میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرے مزید گانے آئیں گے اور میں اپنی گلوکاری نہیں چھوڑوں گا‘۔
‘بدوبدی’ پر وسیم، وقار اور فخرِ عالم بھی جھوم اٹھے
واضح رہے 28 ملین ویوز کے بعد یوٹیوب نے کاپی رائٹ کی وجہ سے چاہت فتح علی خان کا یہ گانا ڈیلیٹ کردیا تھا۔
گلوکار چاہت فتح علی خان کے گانا کے ڈیلیٹ ہونے پر جہاں متعدد سوشل میڈیا صارفین جشن مناتے دکھے وہیں بدو بدی کے دیوانے چاہت فتح علی کے غم میں برابر کے شریک بھی نظر آئے۔
(بشکریہ:ایکسپریس ہنگامہ)
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

