ایک عرصے سے اور بہت سے عناصرِ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حکومت اور سیاست میں خطوط نگاری کا خاصا عمل دخل بھی شامل ہو گیا ہے اگرچہ زمانہ قدیم سے ہی خطوط نویسی کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے حکمران مختلف حکمرانوں اور اپنے حکومتی اہل کاروں کو خطوط لکھتے تھے خط و کتابت اور پیام رسانی کے لیے کسی نامہ بر کی تلاش ہوتی تھی اور نامہ بر کی بہت اہمیت ہوتی تھی قاصد کو سفارتی حقوق بھی حاصل ہوتے تھے ڈاک کا نظام جب ابھی اتنا جدید اور تیز رفتار نہیں ہوا تھا تو کبوتر اور دیگر پرندوں کے ذریعے بھی پیغام رسانی کی جاتی تھی۔ عاشق لوگ تو اپنے محبوب اور اپنے صنم کو پیغام رسانی کیلئے خطوط کا ہی سہارا لیتے تھے اور کچھ سچے عاشق نامراد تو اپنے خون سے خط لکھ کر محبوب کو پہنچانے کا جتن کرتے تھے۔خط بھیج کر نامہ بر کی خیریت کی دعائیں بھی ہوتی تھیں اور تشویش بھی رہتی تھی کہ خط بحفاظت پہنچ بھی جائے
خط کبوتر کس طرح لے جائے بام یار پر
پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر
بہرحال یہ خطوط نویسی کا سلسلہ خاصا قدیم اور تاریخی ہے اردو ادب میں تو غالب کے اکثر خطوط جہاں ادب عالیہ کا حصہ بنے ہیں وہاں وہ حکمرانوں سے شکوے شکایات اور دکھی دلوں کی ترجمانی کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
اب پاکستان کی حکومت اور ریاست میں بھی خطوط کا خاصا عمل دخل ہو رہا ہے اور ایسے وقت میں جب جدید ٹیکنالوجی اور آمدورفت اور مواصلات کے ذرائع آ گئے ہیں ایک بار پھر سے خطوط نگاری کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایک عرصے سے قطری خط کی خاصی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے اس کے بعد حکومت کی تبدیلی میں امریکی خط کا سلسلہ بھی خاصے زور و شور سے جاری و ساری ہے اب حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں سینئر سیاستدان کے خط نے بھونچال برپا کر دیا ہے چوہدری شجاعت کہ جن کی بات سمجھنے اور سمجھانے کیلئے بھی کافی محنت درکار ہوتی ہے انہوں نے خط کے ذریعے اپنے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرنے کی جو کوشش کی ہے عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس پر ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے اب دیکھیں ان کا یہ خط کیا اثر دکھاتاہے اور حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ سر دست تو اس خط کی وجہ سے ایک آئینی سیاسی حکومتی اور عوامی بحران پیدا ہو گیا ہے ہو سکتا ہے چوہدری شجاعت نے کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی کے مصداق یہ خط لکھ ڈالا ہو اور اسے ویران کاغذ ہی سمجھا ہو بقول ظہور نظر
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آ خری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
شاید یہی وجہ ہے کہ اس خط کو کورا کاغذ اور آ خری خط ہی سمجھا جا رہا ہے بہرحال لکھوانے والے نے اس سے ضرور اپنا مطلب نکالنے کا سوچ کر یہ نعرہ لگایا ہوگا کہ مجھے خط ملا ہے غنیم کا
ایک عرصے سے ملک کی سیاست حکومت اور معیشت بحرانی کیفیت کا شکار ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے مقتدر ادارے اور عدلیہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس ملکی بحران کو ختم کریں بصورت دیگر سنجیدہ حلقے پاکستان کا موزانہ سری لنکا کے حکومتی سیاسی اور معاشی حالات سے کر رہے ہیں۔
جب تک تمام سیاسی جماعتیں اور سٹیک ہولڈرسیاسی نظام کی بہتری کیلئے مثبت سوچ کے ساتھ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے اس وقت تک حالات اور معاملات کو سلجھانے میں مدد نہیں ملے گی۔
موجودہ دورڈائیلاگ اور مکالمے کا دور ہے صدر اور وزیراعظم بھی ایک دوسرے کو خطوط لکھنے کی بجائے مفاہمت کا راستہ تلاش کرتے ہوئے ڈائیلاگ کا اہتمام کریں۔ مسائل کو حل کرنے کیلئے مشاورت کا سہارا لیں تبھی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے ورنہ
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے والی صورت درپیش رہے گی
پچھتر سال سے ہم سیاسی نظام میں مکھی پر مکھی مارنے کے اصول پر عمل پیرا ہیں عوام کی خواہشات کے برعکس حکومتوں کو اقتدار میں لاتے ہیں جو عوام کی بجائے اپنے مفادات کی ترجمان ہوتی ہیں۔
سیاست میں شرافت اور شائستگی کی بھی بہت کمی نظر آ رہی ہے ووٹ اور ووٹر کو اہمیت دینے کی بجائے چند مخصوص طبقات اور شخصیات کے مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ دھونس دھاندلی او ر قانون شکنی کے رجحان نے ہمارے حکومتی اور سیاسی نظام کو تو نقصان پہنچایا ہے عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین کی ہے حقائق کو سمجھنے کے بعد عوام کا ملکی اداروں پر سے اعتماد بھی اٹھتا جا رہا ہے جو کسی بھی طور لائق تحسین نہیں ہے۔
حکومت اور سیاست کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ایسے اصولوں کا رائج کیا جانا ضروری ہے جہاں الیکشن کمشن سمیت تمام اداروں کی شفافیت اور غیر جانبداری نمایاں طور پر نظر آئے۔ سیاست دانو ں کو بھی ایک دوسرے پر بے جا تنقید کردار کشی، گالم گلوچ اور دھول دھپے کی سیاست سے پرہیز اور گریز کرنا ہو گا ہماری اسمبلیاں مچھلی منڈی اور بکرا منڈی کی بجائے صحیح معنوں میں قانون سازی اور شایستگی کا مظاہرہ کرتی نظر آئیں پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ اور اس کا تشخص مسخ ہو رہا ہے۔ لہٰذا یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ملک میں عدم برداشت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیں اور ہماری حکومتی اور سیاسی نظام کا ڈھانچہ بھی صاف شفاف اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو نہ کہ یہ صرف چند طبقات اور شخصیات کے مفادات اور خطوط نگاری کا مرہون منت ہو اب ہم ان خطوں پر تکیہ کرنے کی بجائے اصولوں کی سیاست کو فروغ دیں بلکہ اس کی بنیاد ایسے خطوط پر استوار ہو کہ صحیح معنوں میں تبدیلی کے آثار نظر آنے لگیں اور عوام کو سب اچھا ہوتا دکھائی اور سنائی بھی دے۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

