اردو کے معروف نقاد، شاعر اور مدیرڈاکٹر انور سدید کی ںویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ڈاکٹر انور سدیدکااصل نام محمد انوار الدین تھا ۔وہ 4دسمبر 1928ءکو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی ۔ جامعہ پنجاب سے ادیب فاضل کیا 1966ء میں ڈاکٹر انور سدید نے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ ڈھاکہ سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر وزیرآغا کے ایما پر انہوں نے ایم اے اردو کیا اور” اردو اب کی تحریکیں“کے عنوان سے مقالہ لکھ کرپی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز محکمہ آبپاشی میں محرر کی حیثیت سے کیا۔1988ءمیں محکمہ آبپاشی سے سپریٹنڈنگ انجینئر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔آپ زمانہ طالب علمی سے شعر ادوب سے وابستہ ہوگئے۔
آپ کی 41کتابیں منظر عام پرآئیں۔ ڈاکٹر انور سدید20مارچ 2016ءکو لاہور میں انتقال کر گئے
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

