میڈیا مالکان اور ان کے نام نہاد وفادار جو خود لاکھوں میں کما رہے ہیں ۔صحافیوں اور ورکرز کی ہزاروں میں تنخواہیں ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔افسوس صد افسوس اخبارات اور چینلز کے ذریعے تو تھے ہی اب ڈیجیٹل کے نام پر بھی مالکان اور انتظامیہ سفید ہاتھی بن چکی ہے۔
ہیلپرز،فرنٹ ڈیسک،کیمرہ مین،فوٹوگرافر،سب ایڈیٹرز،رپورٹرز اور ٹیکنیکل سٹاف جنہیں معمولی فی کس اعزازیہ دیا جاتا ہے ۔ آج جب کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے مقرر ہے میڈیا کے ادارے انہیں 8 سے 20 ہزار روپے کاغذات میں ادا کرتے ہیں۔کروڑوں کے اشتہارات دینے والے کاش میڈیا کے اداروں کے آڈٹ کا اختیار بھی حاصل کر پائیں نہیں تو آمدنی اور اخراجات کا حساب ہی لے لیں۔واضح رہے یہ وہ آمدنی ہے جو براہ راست جیبوں میں جارہی ہے۔میں جس ادارے سے وابستہ ہوں وہاں صرف رپورٹنگ کا شعبہ ماہانہ 35 سے 45لاکھ کا بزنس دے رہا ہے مگر میڈیا مالک و انتظامیہ ان کی ماہانہ دو سے اڑھائی لاکھ روپے تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہے لوگ تنخواہیں لینے کیلئے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔سب سے اہم بات کہ یہ 8 سے 10 رپورٹرز کی تنخواہ دو سے اڑھائی لاکھ روپے بنتی ہے۔
دعا ہے میرے صحافیوں اور ورکرز کو بھوک و افلاس کی اس غلامی سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔معاشی خون بہانے کا سلسلہ ختم ہوسکے۔صحافت اور صحافی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت برباد کرنے والوں کو عقل آسکے
( جاری ہے )
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

