امریکا کے صدر جو بائیڈن نے دوبارہ صدارتی امیدوار نہ بننے پر غور شروع کردیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق صدر بائیڈن کے انتہائی قریبی افراد کا کہنا ہےکہ جو بائیڈن نے دستبردار ہونے کے لیے ابھی اپنا ذہن تو نہیں بنایا تاہم بظاہر وہ اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ انہیں ممکنہ طورپر اس دوڑ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق بائیڈن اب اس بات پر یقین کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ نومبر کے صدارتی انتخابات کو جیتنا ان کے لیے مشکل ہوگا اور بلآخر انہیں صدارت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ عین ممکن ہے کہ جوبائیڈن کاملا ہیریس کو صدارتی امیدوار کی حیثیت سے نامزد کردیں۔ میری لینڈ کے رکن کانگریس جیمی ریسکین بھی اب ان ڈیموکریٹ رہنماؤں میں شامل ہیں جو بائیڈن پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دستبردار ہوں۔اس سے قبل گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب کی دوڑ سےباہر ہونے کا مشروط اشارہ دیا تھا۔
ایک انٹرویو میں جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ طبی مسائل پیچیدہ نوعیت کے ہیں تو وہ صدارتی دوڑ سے باہر ہوسکتے ہیں۔
81 سالہ امریکی صدر پر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے مباحثے کے بعد سے اپنی ہی سیاسی جماعت کے متعدد رہنماؤں کی جانب سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا دباؤ ہے۔ادھر سابق ہاؤس اسپیکر نینسی پلوسی نے بھی صدر بائیڈ ن سے ٹیلی فون پر کہاکہ پولز سے پتا چلتا ہے کہ وہ جیت نہیں سکتے۔
اس پر صدر بائيڈن نے کہاکہ ان کے پاس ایسے پولز ہیں جو کامیابی کا بتا تے ہیں۔
(بشکریہ:جیونیوز)
جمعہ, اکتوبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

